زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں ہم قدرت کی ان انمول نعمتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں جن کی ہمیشہ ہی ضرورت رہے گی۔زندگی کی علامت پیڑ پودے شہروں کی ان عمارتوں کے جنگل میں کہیں گم سے ہوتے جا رہے ہیں شہری زندگی چھوٹے چھوٹے فلیٹس پر مشتمل ہوتی جا رہی ہے اب بہت سے علاقوں میں نہ وہ آنگن ہیں اور نہ کوئی کیاریاں جن میں پیڑ پودے اُگائے جاتے تھے۔ ان کے تازہ پھلوں اور پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو ذہن کو معطر کرتی تھی۔ ایسا نہیں کہ اگر آپ کا گھر بہت بڑا ہو گا تب ہی آپ اپنے گھر میں کچھ ہریالی لا سکتی ہیں بلکہ یہ آپ کے ذوق اور سلیقے پر منحصر ہے، آپ اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے گملوں میں بھی تازہ پھولوں اور کچھ سبزیوں کو اُگا سکتی ہیں مثال کے طور پر ہری مرچیں، ہرا دھنیا، ٹماٹر، پارسلے، پودینہ، ہری پیاز، لیموں یہ وہ اشیاء ہیں جو کھانوں کے روزمرہ استعمال میں عام ہیں آپ انہیں تازہ توڑ کر اپنے کھانوں کے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ تو کر ہی سکتی ہیں۔ گملوں میں ایسے پھول بھی اُگائے جا سکتے ہیں جو آپ کے گھر کو معطر کر سکیں رات کی رانی، دن کا راجہ اور موتیے کا پودا بہت خوشبو دیتے ہیں اور رنگ برنگے دیسی گلاب اور دیگر پھول بھی بہت اچھے رہتے ہیں۔ جن خواتین کے پاس چھتوں کی سہولت میسر ہے وہ وہاں بھی گملوں اور کیاریوں کی صورت میں ایک گارڈن بنا سکتی ہیں۔اپنے گھر میں لگے تازہ پھولوں کی خوشبو آپ کے ذوق اور گھر کی خوبصورتی دونوں کا منہ بولتا ثبوت ہو گی۔ گرمیوں کے موسم میں جب اکثر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ایسے میں گرمی سے بے حال آپ اور آپ کی فیملی چھت پر بنے اس چھوٹے سے گارڈن میں شام کی چائے سے لطف اندوز ہونگے تو آپ کو اپنی محنت وصول ہوتی محسوس ہو گی۔یہاں لگے خوشبودار پھولوں کی مہک آپ کو تازگی کا احساس دے گی۔ان تازہ پھولوں سے بنے گجرے آپ کو مزید حسین بنا دیں گے اور ان ہی تازہ پھولوں کو گلدانوں میں سجا کر آپ اپنے کمروں میں خوبصورتی اور خوشبو کے بہترین امتزاج سے کمرے کی رونق بڑھا سکتی ہیں۔ کمروں میں سجائے جانے والے پھولوں کو آپ کئی دن تک تازہ رکھ سکتی ہیں اس کیلئے آپ کو ذرا سی توجہ دینی ہو گی پھولوں کی ٹہنیوں کو آخر میں قلم کے انداز میں کاٹیں جس سے ان ٹہنیوں کو پانی اور آکسیجن کی زیادہ مقدار مل سکے گی۔پھول دان میں تھوڑا سا نمک شامل کر دیں تو اور بھی بہتر ہے۔ان سے پھولوں کی تازگی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔اپنے کمروں میں آپ منی پلانٹ اور دیگر ان ڈور پلانٹس بھی رکھ سکتی ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے کاشت ہونے والی سبزیاں اور پھول آپ کو وہ خوشی دیں گے جو باہر سے خریدے ہوئے پھل، پھول یا سبزیاں نہیں دے سکتیں۔یہ آپ کی صحت اور اکانومی دونوں پر اچھے اثرات ڈالیں گی۔اگر آپ گھر میں چھوٹے گملے لگانا چاہتی ہیں اور پودوں کو صحت مند رکھنا چاہتی ہیں تو اس کیلئے بھی کچھ ٹپس ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف آپ اپنی باغبانی کا شوق پورا کر سکتی ہیں بلکہ اپنے گھر کو بہترین انداز میں سجا بھی سکتی ہیں۔ سب سے پہلے گملے یا برتن کا انتخاب کریں جن میں پودے لگانے ہوں وہ مٹی کے ہونا ضروری ہیں۔پلاسٹک یا کسی اور مٹیریل کے ہونے کی صورت میں پودے کی جڑوں تک خاطر خواہ آکسیجن نہ ملنے کے باعث پودے جل جائیں گے اور سورج کی تیز شعائیں پودوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔گملوں میں پانی کی نکاسی کا انتظام موجود ہونا ضروری ہے۔ اپنے باغبانی کے شوق کی ابتداء بہت مہنگے پودوں سے ہر گز نہ کریں بلکہ صرف ان پودوں تک محدود ہیں جنہیں آپ پہلے آزما چکی ہیں وہ سخت جان اور آپ کے شوق کے مطابق ہوں گے تو زیادہ مناسب رہیں گے۔ دھوپ بھی پودوں کی نشو و نما کیلئے بہت ضروری ہے لیکن اگر دھوپ بہت زیادہ تیز ہو تو اس سے بچانے کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔آج کل مارکیٹ میں اس کام کیلئے ہرے رنگ کی نیٹ موجود ہے جو پودوں کو دھوپ کی تیزی سے بچاتی ہے۔ ہر پودے کی دھوپ اور پانی کی اپنی اپنی مانگ ہوتی ہے۔اس کیلئے پودے خریدتے وقت کبھی بھی نرسری سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کر لینا بہتر ہے۔ پودوں میں کھاد کا بھی مناسب خیال رکھیں۔ گملوں میں اُگنے والے فاضل پودے اور گھاس پھونس کو نکال دینے سے آپ کے لگائے گئے پودے کو زیادہ اچھی اور بھرپور خوراک ملے گی۔ انڈوں کے چھلکوں کو پیس کر کمروں میں رکھے گئے منی پلانٹ اور دیگر پودوں میں ڈالنے سے ان کے پتے زیادہ بڑے ہونگے۔ چائے بنانے کے بعد اس کی پتی کو ضائع نہ کریں بلکہ اسے ٹھنڈا کر کے پودوں کی جڑوں میں ڈالیں۔ پودے زیادہ تیزی سے بڑھیں گے۔بس دھیان رکھیں کہ پتی ہی ہو اس میں چینی یا دودھ شامل نہ ہو ورنہ آپ کے گھر چیونٹیاں حملہ کر دیں گی اور پودوں کی جڑوں کو کھا جائیں گی۔ پودوں کے گملوں میں کبھی کبھی ٹھنڈی چائے چھڑکنے سے مٹی میں کیڑے نہیں رہیں گے۔ اسی طرح پودوں کی کٹائی، چھٹائی اور دھونے سے ان کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے ورنہ آپ کا باغیچہ بے ڈھنگا اور جنگل کی شکل اختیار کر کے کیڑے مکوڑوں، مکھیوں اور دیگر حشرات کی جنت بن جائے گا۔