کارتی پی چدمبرم
ہندوستان میں دو ایسی غیر ملکی کمپنیاں یا ادارے ہیں جن کے یونیفائیلا پے منٹس انٹرفیس پر ایک طرح کی اجارہ داری ہے۔ ان کمپنیوں کے ایپس کے ذریعہ ملک میں 86 فیصد آن لائن ٹرانسیکشن یا رقمی لین دین ہوتا ہے یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کم از کم پچھلے 6 برسوں کے دوران ہمارے ملک کا یونائیڈ پے منٹس انٹرفیس UPI بڑی حد تک نقدی پر مبنی معیشت کو تیزی سے ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف جاریہ سال یعنی 2026 کے مئی میں ہی یوپی آئی کے ذریعہ 23.2 ارب لین دین کئے یعنی یو پی آئی کے ذریعہ اس قدر کثیر رقم کی منتقلی عمل میں آئی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستانی شہریوں نے ایک ماہ میں یو پی آئی کے ذریعہ 30 لاکھ کروڑ کے قریب رقم منتقل کی۔ تاہم اتنے بڑے پیمانہ کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ آپ کو بتادوں کہ مالیاتی ضابطہ کاری میں اس صورتحال کے لئے ایک اچھی طرح تسلیم شدہ تصور موجود ہے جسے تقریباً ہر جگہ نافذ کیا گیا ہے۔ سوائے یہاں کہ اسے Concentration link کہا جاتا ہے۔ یہ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بہت زیادہ انحصار بہت ہی کم ذرائع پر ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چند ادارے غلط یا خراب طریقے سے کام کررہے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہیکہ اگر ان میں سے کوئی ایک کام کرنا بند کردے تو کیا صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کے ادائیگیوں کے نظام میں اس طرح کا خطرہ تین پرتوں یا Layers میں موجود ہے جو ایک کے اوپر ایک قائم ہیں۔ پہلے یہ کہ ہندوستان میں ہر دس میں سے 8 سے زیادہ ڈیجیٹل ریٹیل ادائیگیاں اب ایک ہی نظام یعینی UPI کے ذریعہ ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس نظام کو ڈیزائن کرنے سے لیکر چلانے اور اس کی نگرانی کرنے والی واحد تنظیم نیشنل پے منٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) ہے، تیسرے یہ کہ اس نظام پر دو ایپلکیشنس فون پے اور گوگل پے تمام ادائیگیوں کا 4/5 فیصد حصہ ہتھیالیتی ہیں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مئی 2026 میں فون پے اور گوگل پے کا مشترکہ حصہ 79 فیصد تھا جو پہلی مرتبہ 80 فیصد سے کم درج ہوا تھا۔ 5 نومبر 2020 کو NPCI نے ایک سرکیولر جاری کیا جس کے تحت واحد تھرڈ پارٹی (تیسرے فریق) یو پی آئی ایپ کو ماہانہ رقومات کی منتقلی کے حجم کے 30 فیصد تک محدود کیا گیا۔ NPCI کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لئے اٹھا رہا ہے۔ اس کے تحت ایسے بڑے ادارے جو اس حد سے تجاویز کررہے تھے انہیں اس پابندی پر عمل درآمد کے لئے ڈسمبر 2022 تک کی مہلت دی گئی اور اس مہلت یا آخری تاریخ کو دو مرتبہ موخر کیا جاچکا ہے اور ایسا کیوں کیا گیا اس کی آج تک وضاحت بھی نہیں کی گئی۔ آپ ذرا سوچئے کہ جب یو پی آئی کام کرنا بند کردے تو کیا ہوگا۔ سال 2025 کے دوران UPI کو بار بار Outages یا بندش کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے صرف ایک 12 اپریل کو کی گئی بندش کی وجہ NPCI نے مناسب انداز میں بیان کی ایک ماہانہ تنخواہ پر گذارہ کرنے والے فرد کے لئے چار گھنٹوں تک یو پی آئی کا بند رہنا محض ایک پریشانی ہے لیکن کسی میوہ فروش یا آٹو ڈرائیور کے لئے اس کا مطلب پورے دن کی کمائی یا آمدنی کا نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ کارڈ مشین ہوتی ہے نہ کوئی دوسری ایپ اور نہ ہی کوئی متبادل ذریعہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف دھوکہ دہی کا مسئلہ بھی ہے جہاں ہندوستان کا ریکارڈ اس سے بھی خراب ہے جتنا ہم تسلیم کرتے ہیں اور جہاں زیادہ Concentration نظام کی کمزوریوں اور خامیوں کو بڑھاسکتا ہے حکومت کے اپنے پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق باالفاظ دیگر حکومت نے اس ضمن میں پوچھے گئے سوالات پر پارلیمنٹ میں جوابات دینے ان کے مطابق نومبر 2025 تک یو پی آئی دھوکہ دہی کے 10.64 لاکھ واقعات درج کئے گئے جن میں لوگوں کو 805 کروڑ روپیوں سے محروم ہونا پڑا۔ اس طرح صرف 5 برسوں کے عرصہ میں ڈیجیٹل پے منٹ فراڈ کے 5.86 لاکھ واقعات پیش آئے جس کے نتیجہ میں عوام کو 3590 کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا۔ ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیا اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ادائیگیوں کا Concentration بذات خود صارفین کے لئے صورتحال کو مزید خراب کرتا ہے بجائے اس کے کہ یہ محض ایک اتفاق ہو؟ ہاں اور اس کے شواہد ایک ایسے ملک سے ملتے ہیں جو اس راہ پر ہندوستان سے کہیں زیادہ آگے جاچکا ہے۔