قربانی کرنے سے روحانیت کو جلا ملتی ہے
مولانا غلام رسول سعیدی اگر شوق کے ہنگاموں سے دل مچلنے لگے تو عجز کی پیشانیاں اس بے نیاز کی بارگاہ میں جھکنے کے لئے بڑھ جائیں۔ اگر کسی کے
مولانا غلام رسول سعیدی اگر شوق کے ہنگاموں سے دل مچلنے لگے تو عجز کی پیشانیاں اس بے نیاز کی بارگاہ میں جھکنے کے لئے بڑھ جائیں۔ اگر کسی کے
حافظ محمدسعیدالدین نظامی واتموا الحج والعمرۃ للّٰہ (البقرہ) اور پورا حج کرو اور عمرہ کرو اﷲ کی (رضا) کیلئے۔ اہلِ عرب قدیم زمانہ سے حج کیا کرتے تھے، لیکن ان
از:ڈاکٹر سید عارف پاشاہ قادری سلطان الفقراء حضرت سید شاہ عبد اللّطیف لااُبالی قدس سرہٗ کا شمار ہندوستان کے اولیائے اکابرین میں ہو تا ہے۔ جن کی اولاد میں اور
“حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بہت ہی مالدار صحابی تھے لیکن چند دنوں بعد ملاقات پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی
سارے ملک میں ایک شور مچا ہے کہ طلاق بل پاس ہو چکا ہے اور اب مسلم بہنیں آزاد ہوچکی ہے۔ مگر دوسری طرف ایمانی ہمیت سے بھرپور ہماری اکثر
اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ (کی رضا) کے لیے پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور جو آسانی سے مل جائے (وہ بھیجدو) اور نہ منڈاؤ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : مَنْ لَمْ يَمْنَعْهٗ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ،
کتاب و حکمت کی تعلیم اور تزکیہ نفوس ، رسالت و نبوت کے بنیادی مقاصد ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’بیشک اﷲ تعالیٰ نے مومنین پر احسان
اﷲ تعالیٰ نے ہر صاحب استطاعت مسلمان ( عاقل و بالغ مرد و عورت )پر زندگی میں ایک بار حج کو فرض قرار دیا ہے ۔ ہر حج کرنے والے
حضرت سید شاہ موسیٰ قادری رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلۂ نسب اکیس واسطوں سے حضور سیدنا غوث الاعظم دستگیرؓ سے جا ملتا ہے۔آپ کے والد کا اسم گرامی حضرت سید
عدل ہرشیٔ کواس کی جگہ پررکھنے کا نام ہے،اس کے بالمقابل ظلم کا لفظ مستعمل ہے جس کے معنی کسی شیٔ کواس کے صحیح موقع ومحل سے ہٹادینے کے ہیں۔اس
مرسل: ابن ِعبدالملک محمدعبدالعظیم نظامی ۱) حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری مسجد میں ایک نماز کعبہ کے سوا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے
سید شاہ مصطفے علی صوفی سعید قادری شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نے اپنی تصنیف ’’جذب القلوب الیٰ دیار المحبوب‘‘ میں لکھا ہے کہ امت کے تمام علماء کا
ملک جس رفتار سے فرقہ پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے اور انسانیت سوز واقعات دن بدن بیش آرہے ہیں اور انسان انسان کا دشمن بن گیا ہے۔ اور ائین
مسجد حرام کے امام وخطیب شیخ سعود شریمتی نے کل خطبہ جمعہ میں انے والے حجاج سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ حضرات دور دراز علاقوں سے، جنگلوں، بیابانوں
بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو حج کرے اس گھر کا یا عمرہ کرے تو کچھ حرج نہیں اسے کہ چکر لگائے ان دونوں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : مَنْ حَجَّ هٰذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ. مُتَّفَقٌ
حج، دین اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم اور بنیادی ستون ہے۔ مالی و بدنی عبادت کا جامع ہے۔ نماز اور روزہ جسمانی عبادتیں ہیں اور زکوۃ محض مالی
حکمِ خدا، حکمِ خدا ہی ہے۔ آج کے موجودہ زمانے کے فسادات میں سے ایک فساد احکامِ الٰہی کی عظمت دل سے نکل جانا ہے۔ شریعت کے احکام جب کسی
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت احرام میں کعبہ شریف کے غلاف کو چومنا اور سر پر رکھنا کیسا ہے۔ اگر ایسا کیا جائے