یونہی آئی نہیں یہ میرے پیچھے
یہ دنیا میں نے ٹھکرائی بہت ہے
ہندوستان کی جن ریاستوں میں تاحال ایس آئی آر کا عمل مکمل ہوچکا ہے اس کے نتیجہ میں اب تک جملہ 13 کروڑ رائے دہندوں کے نام حذف کردئے گئے ہیں۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل اس عمل پر سوالات کئے جا رہے تھے اور ایک انگریزی روزنامہ میں الیکشن کمیشن میں کئے جارہے من مانی اور یکطرفہ فیصلوں کے انکشاف کے بعد اب اس مسئلہ پر سوالات اور شبہات میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ جس جس ریاست میں بھی ایس آئی ار کا عمل مکمل ہوا ہے وہاں لاکھوں بلکہ کروڑوں رائے دہندوں کے نام حذف کردئے گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک مخصوص پیٹرن اختیار کرتے ہوئے ووٹرس کے نام حذف کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے اور اس کا واحد مقصد مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی انتخابات جیتنے میں مدد کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بی جے پی کی شدید مخالفت کرنے والے تمام قائدین کو انتخابی شکست سے دوچار کردیا جائے ۔ اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ملک کی آبادی میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور آبادی 150 کروڑ کے قریب پہونچنے لگی ہے ۔ جب ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تو پھر ووٹرس کی تعداد میں کمی کس طرح سے درست ہوسکتی ہے ؟ ۔ کیا ہندوستان کی آبادی کو ہی اپنے ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح کے سوالات کئی گوشوں سے اور خاص طور پر کانگریس کی جانب سے پوچھے جا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن پر ساز باز کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو منطقی اعتبار سے درست ہیں اور ان کا جواب الیکشن کمیشن کو دینے کی ضرورت ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ گذشتہ چند دن سے کئی سوالات سے کمیشن سے پوچھے جا رہے ہیں لیکن کمیشن اس معاملے میں گول مول جواب دی کر خاموش ہوگیا ہے اور کمیشن کا دفاع بی جے پی کی جانب سے پوری شدت سے کیا جا رہا ہے ۔ پارٹی نے کئی قائدین کی ایک پوری فوج اس کام کیلئے چھوڑ دی ہے اور اس میں کئی ریاستوں کے چیف منسٹروں کو بھی شامل رکھا گیا ہے ۔
الیکشن کمیشن ملک کا ایک آزاد دستوری ادارہ ہے اور اس کے کام کاج میں کسی کو بھی مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ کمیشن پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کام کاج میں کسی کی مداخلت کو برداشت نہ کرے ۔ تاہم کمیشن کے تعلق سے یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ اس نے بی جے پی کے اشاروں پر بہت کچھ کردکھایا ہے ۔ بی جے پی کو انتخابی کامیابی سے ہمکنار کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری شائد کمیشن کی پوری کر رہا ہے ۔ کمیشن کو اپنے امیج کی شائد کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن کسی کی مداخلت کو قبول کئے بغیر پوری غیرجانبداری سے کام کرے اور کسی کے انتخابی فائدہ یا نقصان کو خاطر میں لائے بغیر عوام کے حق رائے دہی کا تحفظ کیا جائے ۔ تاہم کمیشن اس معاملے میں بالکل الٹ موقف اختیار کر رہا ہے ۔ جو سوال پوچھے جا رہے ہیں وہ عوام کا اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے اور ان سوالات کے جواب دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ الیکشن کمیشن اس ذمہ داری سے بچ رہا ہے اور خاموشی اختیار کرتے ہوئے اپنے دفاع کیلئے ایک طرح سے سیاسی سہارا لے رہا ہے ۔ یہ سہارا بی جے پی کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے اور بی جے پی اور الیکشن کمیشن میں شبہات کو اسی وجہ سے مزید تقویت حاصل ہوتی جا رہی ہے ۔ جو سوال بنیادی نوعیت کے اور عام فہم کے ہیں ان پر وضاحت نہ کرتے ہوئے بھی الیکشن کمیشن اپنے ہی امیج کو متاثر کرنے میں لگا ہوا ہے ۔
جس طرح سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اور سماجی جہد کاروں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ ایک طرح سے عوام کی ترجمانی ہے اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے کی جدوجہد ہے ۔ آبادی جب لگاتار بڑھ رہی ہے تو ووٹرس کم ہونے کی منطق کسی کے بھی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے ۔ کم از کم اس بنیادی سوال کا الیکشن کمیشن کو کھل کر جواب دینے کی ضرورت اور جو کچھ بھی شبہات اب تک پیدا ہوئے ہیں ان تمام کو دور کرنے اور واضح طریقہ سے کمیشن کو جواب دینا چاہئے ۔