تہاڑ جیل میں زیر تحویل۔ جیل سپریڈنٹ نے میری پیٹھ پر اوم کے نشان کی مہر لگائی۔

نبیر نے کہاکہ سپریڈنٹ نے نہ صرف مجھے نوراتری کے نام پر دوروزتک کھانے سے محروم رکھا بلکہ انہوں نے کہاکہ وہ میرے مذہب ہندو ازم میں تبدیل کرائیں گے۔

نئی دہلی۔ تہاڑ میں زیرتحویل قیدی نے دہلی کی ایک عدالت میں اپنی ٹی شرٹ اتارکر اوم کا نشان بتایا جو اس کی پیٹھ پر ہے اور یہ نشان مبینہ طور پر جیل سپریڈنٹ کی کارستانی ہے جس کے لئے اس نے گرم دھات کا استعمال کیاہے۔

نبیر نے میٹرو پولٹین مجسٹریٹ ریچا پریہار سے کہاکہ سپریڈنٹ نے نہ صرف مجھے نوراتری کے نام پر دوروزتک کھانے سے محروم رکھا بلکہ انہوں نے کہاکہ وہ میرے مذہب ہندو ازم میں تبدیل کرائیں گے

۔نبیر کے وکیل جگن موہن کی جانب سے ایک درخواست پیش کرنے کے بعد یہ تمام واقعہ چہارشنبہ کے روز کارکار ڈوم عدالت میں پیش آیا ‘ مذکورہ وکیل نے ایک روز قبل ہی اپنے موکل سے ملاقات کرنے کے بعد اس تمام واقعہ کے متعلق جانکاری حاصل کی تھی۔

ایم سی او سی اے اور آرمس ایکٹ کے تحت 2016میں گرفتار نبیر کو جیل کے نہایت حساس نمبر چار وارڈ میں رکھا ہے ۔

تہار انتظامیہ کو معاملہ کی جانچ اور اس پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے میٹروپولٹین مجسٹریٹ پریہار نے کہاکہ ’’ ملزم کی جانب سے لگائے گئے الزامات نہایت سنگین ہیں اور اس پر فوری سے مداخلت ناگزیر ہے۔

اس کے پیش نظر ڈی جی پی محابس ‘ ہیڈکوارٹر ‘ تہاڑ جیل نمبر چار ‘ نئی دہلی کو نوٹس جاری کی جارہی ہے تاکہ نبیر کی طبی جانچ کی جائے اوراوم کے نشان پر کے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی جائے جو ملزم پر لگا ہے۔

ضروری سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھا کئے جائیں او ر اس ضمن میں دیگر ساتھی قیدیوں کے بیانات بھی لئے جائیں‘‘۔

اس کے علاوہ عدالت نے جیل انتظامیہ کو اس بات کی بھی ہدایت دی کہ نبیر کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے اور اس کو ’’ فوری طور پر راست یابالراست جیل سپریڈنٹ راجیش چوہان کی نگرانی سے ہٹایاجائے‘‘۔

سارے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل تہاڑ اجئے کشیاپ نے انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ اس واقعہ کے ضمن میں ہم نے ایک تحقیقات کا حکم دیاہے۔ مذکورہ قیدی کو دوسری جیل منتقل کیاگیا ہے۔

اس کو سخت سکیورٹی والی جیل میں رکھا گحیاہے جس کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی کی جاتی ہے۔ طبی جانچ او ردیگر قیدیوں کے بیانات کے بعد رپورٹ تیار کی جائے گی‘‘۔ جمعرات کے روز عدالت نے رپورٹ طلب کی ہے اور پیر تک انتظامیہ کو رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے‘‘

TOPPOPULARRECENT