حملے سے قبل بمبار نے کشمیر او رکیرالا کو دورہ کیاتھا‘ سری لنکا آرمی چیف کا بیان

سری لنکا دھماکے۔ نو خود کش بمبار جس میں ایک عورت بھی شامل تھی نے 21اپریل کے روز تین گرجاگھروں اور ین عالیشان ہوٹلوں میں دھماکے انجام دئے تھے جس میں 253لوگ مارے گئے اور 500دیگر زخمی ہوئے تھے

کولمبو۔پچھلے ماہ سری لنکا میں ہولناک بم دھماکے انجام دینے والے خود کش بمباروں میں سے کچھ نے ”تربیت حاصل کرنے کے مقصد“ یا پھر دیگر تنظیموں سے ”اور کچھ لنک بنانے کے لئے“کشمیر اور کیرالا ائے تھے‘ اس طرح کا دعوی ہفتہ کے روز سری لنکا فوج چیف نے کیا ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہے کی سری لنکا کے اعلی سکیورٹی افیسر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مذکورہ دہشت گردہندوستان ائے تھے جس کے متعلق انٹلیجنس نے حملے سے قبل جانکاری دی تھی۔سری لنکا دھماکے۔

نو خود کش بمبار جس میں ایک عورت بھی شامل تھی نے 21اپریل کے روز تین گرجاگھروں اور ین عالیشان ہوٹلوں میں دھماکے انجام دئے تھے جس میں 253لوگ مارے گئے اور 500دیگر زخمی ہوئے تھے۔

مذکورہ بمباری سری لنکا کی تاریخ کا سب سے ہولناک حملہ ہے۔بی بی سی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں لفٹنٹ جنرل مکیش سینا ناکیا کمانڈر آرمی نے مشتبہ لوگوں کے علاقے میں سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کی کچھ تفصیلات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہاکہ ”وہ لوگ(مذکورہ مشتبہ) ہندوستان گئے تھے‘ وہ کشمیر‘ بنگلور او رکیرالا ریاست بھی گئے۔ کچھ اس طرح کی جانکاری ہمارے پاس ہے“۔

جب پوچھاگیا کہ ان لوگوں نے کشمیر او رکیرالا میں کیاسرگرمی انجام دی ہے تو آرمی چیف نے کہاکہ”یقین کے ساتھ تو نہیں کہاجاسکتا ہے مگر یہ وہ کچھ ٹریننگ لینے یا پھر ملک کے باہر دیگر تنظیموں سے تعلقات بنانے گئے ہوں گے“۔ ائی ایس ائی ایس نے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر حکومت کا دعوی ہے کہ مقامی اسلامی شدت پسند گروپ نیشل توحید جماعت(این ٹی جے) اس میں ملوث ہے۔

سری لنکا نے این ٹی جے پر امتناع عائد کردیا ہے اور اس کے ایک سو لوگوں کو بم دھماکے کے الزام میں گرفتار بھی کرلیاہے۔ غیر ملکی گروپس کے ملوث ہونے کے امکانات پر کمانڈر نے کہاکہ یہ اپریشن کے طریقہ کار او رمقام کو اور مشتبہ لوگوں کے بیرونی دورے کو دیکھنے کے کچھ بیرونی لوگوں کے شامل ہونا یا کسی لیڈرشپ کی ہدایت پر کام انجام دئے جانے ی بات ہے۔

جب پوچھاگیا کہ ہندوستان کی جانب سے جانکاری ملنے کے بعد بھی خدشات کو سنجیدگی کے ساتھ کیو ں نہیں دیکھا گیا‘ جس پرلفٹنٹ جنرل نے ہاکہ ”ہمارے پاس کچھ جانکاری اور انٹلیجنس شیئرنگ ہے‘ حالات او رملٹری خفیہ جانکاری دیگر ڈائرکشن پر تھی اور دیگر وہیں دوسرے تھے اور آج ہم درمیان کی دوری کو صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں“۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سری لنکا کو کیوں نشانہ بنایاگیا ہے تو کمانڈر نے کہاکہ ”پچھلے دس سالو ں سے بہت زیادہ آزادی اور بہت زیادہ امن‘ لوگ پچھلے تیس سالوں میں جو ہوا وہ بھول گئے۔

لوگ امن سے لطف اندوز ہورہے تھے اور سکیورٹی کونظر انداز کردیا“۔ انہوں نے لبریشن ٹائیگرس برائے ٹامل ایلم(ایل ٹی ٹی ای) کے ساتھ خانہ جنگی کا بھی حوالہ دیا جس کا اختتام2009میں ہوا اور ایک لاکھ سے زائد جانیں گئیں

TOPPOPULARRECENT