اتراکھنڈ۔ پورولا میں مسلمانوں کی دوکانوں پر ہجوم کے حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

,

   

پورے تشدد کے دوران دروازے اس وقت تک بند رہے جب تک پولیس اہلکار نہیں پہنچے اور حملہ آروں کو جانے کے لئے مجبور نہیں کیا۔
اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع کے پورولا ٹاؤنمیں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب ہندتوا غنڈہ پر مشتمل ایک گروپ نے ایک مسلم دوکاندار پر حملہ کیا ہے۔

ایک ویڈیو وائیرل ہورہا ہے جس میں دائیں بازو کے لوگ جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک مقفل دروازے پر لاٹھیوں سے حملہ کررہے ہیں جو مبینہ مسلم دوکاندار کا ہے۔

پورے تشدد کے دوران دروازے اس وقت تک بند رہے جب تک پولیس اہلکار نہیں پہنچے اور حملہ آروں کو جانے کے لئے مجبور نہیں کیا۔

پورولا 26مئی کے روز پیش ائے واقعہ کے بعد سے فرقہ وارانہ کامرکز بن گیا ہے جب دو لوگوں کی جانب سے ایک ہندو نابالغ لڑائی کا اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان دولوگوں میں ایک مسلمان بھی شامل تھے‘ مقامی لوگوں نے اس کوشش کوناکام بنادیاتھا۔

اس واقعہ کو’لوجہاد“ کے طور پر پیش کیاجارہا ہے کہ جو ہندو دشت پسندوں کا ایک سازشی حربہ ہے‘ جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ مسلمان مردوں پر الزام لگاتے ہیں کہ ہندو عورتوں کو جھانسہ میں لے کر انہیں ورغلایاجارہا ہے اور ان کا مذہب تبدیل کرایاجارہا ہے۔

واقعہ کے فوری بعد 27مئی کے روز پولیس نے ایک مقامی دوکاندار 24سالہ عبید خان اور ایک 23سالہ جیتندر سیانی جو کہ پیشہ سے موٹرسیکل میکانک ہے کو گرفتار کرلیاتھا۔ تاہم حالات اس وقت بگڑ گئے جب دھمکی آمیز پوسٹرس منظرعام پر ائے جس میں مسلم کمیونٹی کے دوکان مالکین سے کہاگیا ہے کہ وہ 15جون تک شہر کوچھوڑ کر چلے جائیں۔

ہندو کمیونٹی کے احتجاج کے بعد اتراکھنڈ چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے 9جون کے روز سینئر پولیس افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کی تاکہ ”لوجہاد“ کے واقعات کو ختم کیاجاسکے۔ بعدازاں صحافیوں سے با ت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لوگوں کی تعداد”لوجہاد“کے خلاف کھل کرسامنے آنے سے اس نوعیت کے جرائم کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری کی عکاسی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”لوجہاد کے معاملات میں قصور وار پائے جانے والو ں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ان سے یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ وقتاً فوقتاًتصدیقی مہمات بھی چلائیں تاکہ باہر سے آنے والے اور یہاں آبادہونے والے لوگوں کے آثار کاجائزہ لیا جاسکے“۔

یہاں پر بارکوٹ‘ چنیا لائی سور‘ اور بھات واری میں بھی احتجاجی مظاہرے پیش ائے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ خوف میں کئی مسلم تاجرین اتراکشی ضلع کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔