اسرائیل سے رہائی کا معاہدہ،فلسطینی قیدی کی بھوک ہڑتال ختم

   

تل ابیب : اسرائیلی جیل میں اپنی غیرمنصفانہ حراست کے خلاف طویل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدی خلیل عواودہ نے اپنا احتجاج ختم کردیا ہے۔انھوں نے آیندہ اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے رہائی پررضامندی ظاہر کرنے کے بعد چہارشنبہ کو160 دن سے زیادہ عرصے سے جاری بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔40 سالہ عواودہ کو دسمبر 2021 میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے بلاجوازگرفتارکیا تھا لیکن انھوں نے بغیرکسی الزام یا مقدمے کے اپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔اسرائیلی حکام فلسطینیون کی ایسی پکڑدھکڑ کو انتظامی حراست کا نام دیتے ہیں۔ان کے وکیل احلام حداد نے رائٹرز کو بتایا کہ عواودہ کی 2 اکتوبرکورہائی ہوگی اور وہ اس وقت تک ہاسپٹل میں زیرِعلاج رہیں گے۔حداد نے بتایا کہ عواودہ نے گذشتہ کئی مہینوں سے صرف پانی پرگزارہ کیا ہے اور پچھلے ہفتے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے ’’کسی بھی لمحے اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں‘‘۔