اسرائیل نے ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید رد عمل ہو گا :وزیرخارجہ

   

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں اسرائیل کو ایران پر کسی بھی حملے سے خبردار کیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل چند روز قبل ایران کی جانب سے میزائل حملے پر جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔عراقجی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ارادے کا امتحان نہ لے۔ انھوں نے واضح کیا ہیکہ اگر ہمارے ملک پر کوئی حملہ ہوا تو اس کا رد عمل ماضی میں کسی بھی کارروائی سے زیادہ بھرپور ہو گا۔اس سے قبل امریکی ذمہ داران نے نیویارک ٹائمز اخبار کو دیے گئے بیانات میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے کارروائی میں ایران کے اندر فوج، سیکورٹی اور قیادت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ذمہ داران نے مزید کہا کہ معاملہ بڑھ جانے کی صورت میں اسرائیل کے پاس ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر ضرب لگانے کا راستہ موجود ہو گا۔کئی اسرائیلی عہدیداران پہلے ہی باور کرا چکے ہیں کہ رواں ماہ کے آغاز پر ایران میزائل حملے کا تل ابیب کی جانب سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی رد عمل پر ان کے ملک کی جوابی کارروائی ایک اٹل بات ہے۔