تل ابیب : اسرائیلی فورسز، جو گزشتہ ایک سال سے غزہ میں حماس کے زیر زمین اہداف پر حملہ کر رہی ہیں، اب جنوبی لبنان میں بھی شدت پسند گروپ حزب اللہ کی سرنگوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ حماس نے گذشتہ سال اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں جوابی کارروائی کی اور جنگ شروع کردی۔ اب اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کی شمالی سرحد سے ایسا کوئی حملہ یا دراندازی نہ ہو۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جنوبی لبنان کے گھنے جنگلات میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک سرنگ کے نظام کا پتہ لگایا، جس میں ہتھیاروں اور راکٹ لانچروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ سرنگیں قریبی کمیونٹیز کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہیں۔ اسرائیل نے کہا کہ اس کی جارحیت میں محدود مقامی اور ٹارگٹڈ زمینی حملے شامل ہیں، جن کا مقصد حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے تاکہ ہزاروں بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ اس لڑائی میں گزشتہ ماہ 10 لاکھ سے زائد لبنانی بے گھر بھی ہوئے تھے۔ جنوبی لبنان میں بہت سے لوگ حزب اللہ کے حامی ہیں۔ چند ماہ قبل بہت سے لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں لیکن وہ اب بھی حزب اللہ کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنانی فوج کے پاس اسرائیل کے حملوں سے بچانے کے لیے اتنے ہتھیار نہیں ہیں اور اسی لیے لوگ حزب اللہ پر انحصار کرتے ہیں۔