اسرائیل ۔ لبنان جنگ بندی

   

ناٹک ہے یہ جیون کا ، ذرا دیکھتے جاؤ
آغاز تو سب ایک ہے ، انجام بہت ہیں
ایران کے دباو کے بعد بالآخر اسرائیل اور لبنان کے مابین میں دس دن کیلئے جنگ بندی ہوگئی ۔ امرحیکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل ۔ لبنان جنگ بندی کا اعلان کیا اور یہ بھی واضح کردیا کہ وہ لبنان کے صدر اور اسرائیل کے وزیر اعظم کو جنگ بندی مذاکرات کیلئے امریکہ مدعو کر رہے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کی جانب سے بھی اس جنگ بندی کو قبول کرلیا گیا ہے اور یہ بھی اشارے دئے گئے ہیں کہ ان دس دنوں میں دونوں کے مابین مستقل جنگ بندی کیلئے بات چیت ہوگی ۔ اسرائیل جہاں غزہ میں تباہی مچا چکا ہے اور اس نے ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ مسلط کردی تھی وہیں وہ لبنان میں بھی خطرناک حملے کرتے ہوئے تباہی مچارہا تھا ۔ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین ہوئی دو ہفتوںکی جنگ بندی میں ایران نے واضح طور پر کہا تھا کہ لبنان بھی جنگ بندی میںشامل ہے ۔ تاہم اسرائیل نے اس کی نفی کرتے ہوئے لبنان میں ہلاکت خیز حملے کئے تھے اور سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا ۔ ایران نے اس مسئلہ پر سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا تھا ۔ ایران کی جانب سے مسلسل دباو بنایا جا رہا تھا کہ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کیا جائے ۔ اسی دباو کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے لبنان اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کروائی ہے اور اب مستقل امن کیلئے بھی بات چیت کا اشارہ دیا ہے ۔ ابتدائی بات چیت تو دونوں ہی فریقین کے درمیان ہوچکی ہے اور اس کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس ساری صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل کو حقیقی معنوں میں جنگ بندی کا پابند بنایا جائے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا جائے ۔ اسرائیل کبھی بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی انداز میں فضائی حملے کرتا ہے اور اسی بات چیت جنگ بندی کیلئے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ جب تک اسرائیل پر موثر ڈھنگ سے لگام نہ کسی جائے اس وقت تک اس جنگ بندی کا مستقبل بھی اطمینان بخش نہیں ہوسکتا اور کسی بھی وقت حملوں کے اندیشے لاحق ہی رہیں گے ۔
اسرائیل سارے علاقہ میں دہشت اور ہلاکت کیلئے تنہا ذمہ دار کہا جاسکتا ہے ۔ ایران کے خلاف بھی جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ اسرائیل ہی کی ایماء پر امریکہ کی شمولیت سے شروع کی گئی تھی ۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ہلچل پیدا ہوگئی تھی ۔ توانائی کا بحران پیدا ہوگیا تھا ۔ آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیا تھا ۔ دنیا کے کئی ممالک میں گیس کی قلت پیدا ہوگئی تھی ۔ خلیجی ممالک میںگیس کے ذخائر پر حملے کئے گئے تھے ۔ ایران میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اور ایران نے بھی امریکہ کے فوجی اڈوںا ور اسرائیل کو زبردست حملوں کا نشانہ بنایا تھا ۔ ساری تباہی کی ذمہ داری محض اسرائیل پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اسرائیل نے ہی امریکہ کو یہ غلط باور کروایا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ چند دن میںجیتی جاسکتی ہے ۔ یہ ایک ایسا تیقن تھا جو کبھی پورا نہیں ہوا اور ایران نے انتہائی حوصلے اور دلیری کے ساتھ دو بڑی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور منہ توڑ جواب بھی دینے کی کوشش کی تھی ۔ اس جنگ کے نتیجہ میںساری دنیا میں جو بحران کی کیفیت پیدا ہوئی تھی اور کئی ممالک کی معیشتوں کو جو بھاری نقصانات ہوئے تھے اس کیلئے محض اسرائیل ہی ذمہ دار تھا ۔ اب بھی لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی جو پہل ہوئی ہے اس کو موثر ڈھنگ سے آگے بڑھانے اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اسرائیل کو بے لگام اگر چھوڑا جائے تو وہ جب چاہے جنگ بندی کی خلاف ورزی کریگا ۔ کئی مرتبہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکہ کے دباو میں اسرائیل کچھ معاملات کو قبول تو کرلیتا ہے تاہم ان پر عمل نہیں کرتا ۔
مشرق وسطی کے علاقہ میں دیرپا امن قائم کرنے کیلئے اسرائیل کو تمام جنگ بندی معاہدات کا پابند بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس پر ہرجانہ عائد کیا جانا چاہئے اور جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کی بھی ضرورت ہے ۔ لبنان کے ساتھ جنگ بندی کو ایک مثبت شروعات ضرور کہا جاسکتا ہے تاہم جو اندیشے لاحق ہیں ان کو دور کرنا زیادہ ضروری ہے تاکہ جنگ بندی دیرپا ہوسکے اور اس دوران مستقل امن قائم کرنے کی سمت کوششوں کو تیز کیا جاسکے ۔ امریکہ اور صدر ٹرمپ کو اس معاملے میںزیادہ ذمہ دارانہ اور سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ محض زبانی جمع خرچ اور بلند بانگ دعووں سے علاقہ میں امن قائم کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔