امریکہ کا بڑی فلسطینی حامی گروپ ٹرمپ کیخلاف سامنے آیا

   

نیویارک : ڈیموکریٹ امیدوار کملاہیریس کو منگل کے روز اس وقت ممکنہ حمایت ملی جب ایک فلسطینی حامی گروپ ان کے ریپبلکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مضبوطی سے میدان میں آگیا ۔ گروپ نے انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ریاست مشی گن میںان کے ووٹ توڑنے کی دھمکی دی ہے ۔ ان کمیٹڈ تحریک واضح طور پر ہیریس کی توثیق کرتے کرتے رہ گئی لیکن سوشل میڈیا پر ایک ویڈیومیں خبردار کیا کہ ٹرمپ کے تحت یہ مزید خراب ہوسکتا ہے ۔ گروپ کے شریک بانیوں میں سے ایک لیکسی زیڈان نے کہا کہ ووٹرس کو بہتر امیدوار کون ہے ’ کے بجائے ‘ بہتر جنگ مخالف طرز عمل ’’ پر غور کرنا چاہیئے ‘‘ ۔ ہیریس کی انتخابی مہم مشی گن جیسی جگہوں پر ووٹوں سے محروم ہوجانے کے بارے میں فکر مند ہے جہاں عرب امریکی کمیونٹی بڑی تعداد میں ہے اور غزہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کیلئے وائٹ ہاؤس کی حمایت پر انہیں سخت غصہ ہے ۔ اس وجہ سے ڈیموکریٹس کیلئے پہلے سے ہی معمولی فرق مزید کم ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ان کمیٹڈ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے قریبی ٹرمپ کی صریح مخالفت کی طرف جھکاؤ سے نائب صدر ہیریس کو کسی قدر اطمینان کا سانس ملے گا ۔ تاہم جنگ مخالف ووٹرس کے ایک اور گروپ نے گرین پارٹی کی امیدوار جل سٹین کی حمایت کی ہے جس سے وہ ممکنہ طور پر سوئنگ ریاستوں میں ٹرمپ کو منتخب کرنے میں مدد دیں گی جہاں فیصلہ صرف چند ہزار ووٹوں سے ہوگا ۔عرب، فلسطینی اور مسلم ووٹرز کی بھاری تعداد پر مبنی دونوں گروپ صدر بائیڈن کے خلاف احتجاج میں ابھرے جنہوں نے غزہ میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں کے باوجوو اسرائیل کی حمایت کی ۔