بالٓاخر دنیا سے ایک خطرناک جنگ کا خطرہ عارضی طور پر ٹل گیا اور ایران اور امریکہ کے مابین دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعدد ساری دنیا میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ ٹرمپ نے ایران کو ایک طرح سے صفحہ ہستی سے مٹادینے کا انتباہ دیا تھا اور محدود وقت میں کسی معاہدہ کیلئے ایران پر دباو ڈال رہے تھے ۔ لمحہ آخر تک سفارتی کوششیں جاری رہیں اور ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران اور امریکہ دونوں نے ہی جنگ بندی سے اتفاق کرلیا ۔ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوگی اور اس دوران دونوں ملکوں کے مابین بات چیت ہوگی تاکہ کوئی مستقل جنگ بندی کی راہ تلاش کی جاسکے ۔ اس جنگ بندی سے ساری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے کیونکہ اگر ٹرمپ کی دھمکی کے مطابق کارروائی کی جاتی تو یہ ساری دنیا کیلئے تباہی کا راستہ کھولنے کے مترادف ہوتا اورا س کے نتیجہ میں جنگ علاقہ تک محدود نہیں رہتی اور پھر یہ جنگ مزید وسعت اختیار کرجاتی ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے ۔ کسی مسئلہ کا حل جنگ کے ذریعہ دریافت نہیں کیا جاسکتا ۔ جنگ عام انسان کیلئے انتہائی مشکلات کا باعث بنتی ہے ۔ انسانیت سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا مشکلات کا شکار ہوجاتی ۔ دنیا بھر میں کئی طرح کے مسائل پیدا ہوجاتے ۔ کئی ممالک کی معیشتیں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہوگئی تھیں اور اگر جنگ بندی نہیں ہوتی تو کئی ممالک دیوالیہ ہونے کے قریب پہونچ جاتے ۔ دنیا بھر میں توانائی ضروریات کی تکمیل مشکل ہوگئی تھی اور اس میں مزید مشکلات پیدا ہونے کے اندیشے بھی لاحق ہوگئے تھے ۔ اب جبکہ دونوں ہی ممالک نے جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے تو ساری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس جنگ بندی کے ذریعہ ایک بڑی تباہی سے بچاجاسکا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ بندی کو مستقل کیا جائے اور دونوں ہی ملکوں کے مابین مستقل امن کی راہ تلاش کی جائے ۔ یہی دونوں ممالک اور ساری نیا کے مفا د میں ہے ۔ اس معاملے میں ابھی تن آسانی سے کام نہیں لیا جاسکتا اور مستقل امن کی کوشش کی جانی چاہئے ۔
امریکہ اور ایران دونوں ہی کو امن کی ضرورت ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ جنگ ایران پر مسلط کردی گئی تھی ۔ ایران نے جنگ کے آغاز سے قبل بھی امریکہ کے ساتھ بات چیت کی تھی اور وہ معاہدہ کی شرائط پر غور کر رہا تھا تاہم اس پر اچانک ہی حملہ کردیا گیا تھا ۔ اس جنگ کے دوران دیکھا گیا کہ امریکہ کو اس کے اپنے قریبی حلیف ممالک کی تائید بھی حاصل نہیں ہو پائی تھی ۔ اس کا اثر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر بھی دکھائی دینے لگا تھا اور وہ اپنے ہی حلیفوں پر برہمی کا اظہار بھی کر رہے تھے ۔ تاہم یہ بھی دیکھا گیا کہ ساری دنیا اس جنگ پر خاموش تماشائی بنی رہی تھی اور کسی نے بھی جنگ بندی کیلئے سرگرم کوششیں نہیں کی تھیں۔ آخری لمحات میںضرور کوششیں ہوئیں لیکن اس میں دنیا کے بڑے اور ذمہ دار ممالک شامل نہیں ہوئے تھے ۔ اب جبکہ دونوں ممالک نے مزید بات چیت سے اتفاق کیا ہے تو یہ ضروری ہوگیا ہے کہ دونوں ہی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذاکرات میںحصہ لیں۔ ایران پر غیر ضروری دباو ڈالنے کی حکمت عملی سے امریکہ کو گریز کرنا چاہئے ۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ ایران پر کئی برسوں سے تحدیدات ہیں اور ان کا کوئی جواز بھی نہیں بن سکتا ۔ ان تحدیدات کو برخواست کرنے پر غور ہونا چاہئے ۔ ایران سے بھی کچھ شرائط منوائی جاسکتی ہیں تاہم ایران کے حقوق کا پوری طرح سے خیال رکھا جانا چاہئے اور دباو کی حکمت عملی سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اصل مقصد علاقہ اور خطہ میں دیرپا اور مستقل امن قائم کرنے کا ہونا چاہئے ۔ یہی آج کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔
معاملہ چاہے ایران کی نیوکلئیر سرگرمیوں کا ہو یا پھر آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا ہو ہر معاملہ میں منصفانہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ علاقائی استحکام اور امن پر خاص توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور دنیا کی توانائی ضروریات ‘ چھوٹے ممالک کی معیشتوں کو ذہن نشین رکھتے ہوئے بات چیت کی جانی چاہئے ۔ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی بات چیت میںشامل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ہی فریقین پر اثر انداز ہوا جاسکے کہ امن قائم ہو ۔ خطہ میں امن کا قیام نہ صرف ایران کیلئے ضروری ہے بلکہ خطہ کے دوسرے تمام ممالک اور ساری دنیا کیلئے ضروری ہے اور اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جانی چاہئے ۔ دیرپا امن کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔