انہوں نے ریاستی اسمبلی کے سامنے واقع ‘شہید سمارک’ سے احتجاجی مارچ شروع کیا اور ‘لوک بھون’ کی جانب بڑھے، لیکن چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کے قریب پولیس نے انہیں روک دیا۔
پٹنہ: ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں نے، جن کی قیادت آر جے ڈی کے تیجسوی یادو کر رہے تھے، جمعرات 8 اکتوبر کو ایس آئی آر عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف یہاں ایک مارچ نکالا۔
پولیس کے مطابق، انہوں نے ریاستی اسمبلی کے سامنے واقع ‘شہید سمارک’ سے احتجاجی مارچ شروع کیا اور ‘لوک بھون’ کی جانب بڑھے، لیکن چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کے قریب پولیس نے انہیں روک دیا۔
ایک سینئر افسر نے بتایا، “جب انہوں نے حفاظتی رکاوٹوں (بیری کیڈز) کو عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور ‘لوک بھون’ لے گئی۔”
احتجاج کے دوران سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے سابق ایم ایل اے اجیت کشواہا بے ہوش ہو گئے۔
‘آکروش مارچ’ (احتجاجی مارچ) کا نام دیا جانے والا یہ مظاہرہ ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی اور تفصیلی نظرثانی’ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
پولیس کی گاڑی میں لے جائے جانے کے دوران تیجسوی یادو نے نامہ نگاروں سے کہا، “ہمیں گورنر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ (این ڈی اے رہنما) جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔”
آر جے ڈی کے کئی رہنما، بشمول ایم ایل اے، اس پولیس گاڑی پر چڑھ گئے جس میں یادو کو لے جایا جا رہا تھا۔
پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے پٹنہ کے ایس ایس پی کارتیکیہ شرما نے کہا، “تیجسوی یادو کو حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ انہیں اور کئی دیگر رہنماؤں کو پولیس کی گاڑی میں بہار لوک بھون لے جایا گیا۔ تاہم، ‘انڈیا’ اتحاد کے کچھ دیگر رہنماؤں کو موقع سے حراست میں لیا گیا۔”
یادو نے الزام لگایا، “گیانیش کمار کو بچانے کے لیے ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ انہیں بچانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، عوام ‘ووٹ چوروں’ کو ضرور سزا دیں گے۔ ان لوگوں نے جمہوریت کے تصور کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور اسے ختم کرنے کی سازش کی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ “بری طرح خوفزدہ تھی کیونکہ اقتدار میں موجود لوگ ووٹ چوری کر کے اور دھاندلی کے ذریعے آئے تھے۔”