نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
وہی شام پھر نہ آجائے جو اب کے شام ہے
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم آج شام ختم ہوگئی ۔ ریاست میں پہلے مرحلے کیلئے رائے دہی ہوچکی ہے جبکہ دوسرے مرحلہ میں 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ اس کیلئے انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہونچ گئی ۔ بی جے پی اور ترنمول کانگریس نے انتہائی شدت کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور رائے دہندوں کو رجھانے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی گئی ۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے کہ تو اس نے تو انتخابی مہم کے دوران ایسے ریمارکس کئے جو نہیں کئے جانے چاہئے تھے ۔ انتخابی مہم کے دوران بنگال کے ماحول کو بگاڑنے اور خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ مرکزی حکومت نے ہر طریقہ اور ہتھکنڈہ اختیار کیا اور ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ایسے اقدامات کئے گئے جو ملک کی کسی اور ریاست میں دیکھنے کو نہیں ملے تھے ۔ اچانک ہی کثیر تعداد میں پولیس عہدیداروں کا تبادلہ کردیا گیا ۔ دوسری ریاستوں سے پولیس اور دوسرے عہدیداروں کو لا کر ریاست میں متعین کردیا گیا ۔ انتخابی مبصرین کی تبدیلی کردی گئی اور لاکھوں افراد کی شکایت ہے کہ ان کے نام ایس آئی آر کے نام پر فہرست رائے دہندگان سے حذف کردئے گئے حالانکہ انہوں نے درکار دستاویزات بھی پیش کئے تھے اور کئی ثبوت و شواہد بھی دستیاب تھے تاہم ان سب کو نظر انداز کردیا گیا ۔ بی جے پی نے اپنی ساری طاقت بنگال میں جھونک دی تھی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی لگاتار بنگال کے دورے کر رہے تھے اور انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ روڈ شو بھی کئے گئے ۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ امیت شاہ ایک طرح سے بنگال میں ہی کیمپ کئے ہوئے تھے ۔ امیت شاہ انتخابی مہم کے دوران ملک کے وزیر داخلہ نہیں بلکہ صرف بی جے پی کے بنگال سے متعلق لیڈر ہی دکھائی دے رہے تھے ۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے چیف منسٹروں کو بنگال کی پریڈ لگادی گئی تھی ۔ مرکزی وزراء اور دوسری ریاستوں کے قائدین بھی لگاتار بنگال کے دورے کرتے رہے اور زور و شور سے انتخابی مہم بھی چلائی ۔
بی جے پی کی جانب سے خاص طور پر چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ اور چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا سرما کو بنگال کے بے شمار دورے کروائے گئے ۔ یہ دونوں چیف منسٹرس اپنے دستوری عہدوںکی پرواہ کئے بغیر مخالف مسلم ریمارکس کیلئے جانے جاتے ہیں۔ ان دونوں نے بنگال میں دورے کرتے ہوئے کبھی بھی ترقیاتی ایجنڈہ پر اظہار خیال نہیں کیا اور نہ ہی اپنی اپنی ریاستوں میں کی گئی کسی طرح کی ترقی کی بات کی ۔ دونوں نے ہی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والی باتیں کہیں۔ آدتیہ ناتھ ہندو ۔ مسلم کا راگ ہی الاپتے رہے ۔ وہ بنگال میں انتخابی مہم چلا رہے تھے اور کسی منصوبہ یا مستقبل کے پروگرام کی بات کرنے کی بجائے ان کو مسلمانوں کے افطار کی فکر تھی ۔ انہوں نے اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر توجہ دینے کی بجائے بنگال میں حالات ابتر ہونے کا دعوی کیا ۔ جہاں تک چیف منسٹر آسام کی بات ہے تو انہوں نے بھی فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے کا ایک طرح سے ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ انہوں نے بھی بنگال میں آکر صرف مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی ہی کوشش کی تھی ۔ بنگال میںانتخابی مہم چلاتے ہوئے انہوں نے آسام حکومت کی جانب سے کئے گئے ترقیاتی کاموںکا تذکرہ تک نہیں کیا تھا ۔ دوسرے مرکزی وزراء اور بی جے پی کے چیف منسٹروں نے بھی اسی نہج پر بات کی اور صرف ایک ہی مقصد پیش کیا کہ کسی طرح سے بنگال میں ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کیا جائے اور ممتابنرجی سے اقتدار چھین لیا جائے ۔
جہاں تک ممتابنرجی کی بات ہے تو انہوں نے تن تنہا بی جے پی کی ساری فوج کا مقابلہ کیا ہے اور پارٹی کی ساری انتخابی مہم کی ذمہ داری اپنے کندھوںپر اٹھائی ہے ۔ ریاست کے عوام کے درمیان مسلسل دورے کرتے ہوئے انہوں نے راست رابطے کرنے اور عوام سے اپنے تعلق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کچھ بی جے پی کے ایجنٹوں نے بھی یہاں ممتابنرجی کے خلاف ماحول بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہونچ چکی ہے تو عوام کے پاس چند گھنٹوں کا وقت ہے کہ وہ سکون اور اطمینان کے ساتھ غور و خوض کریں اور ریاست کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔