بی جے پی اقلیتی سل یوپی خاتون کے لئے معاوضہ مانگ رہا ہے جن کے سر میں پولیس اہلکارنے گولی ماری تھی

,

   

اقلیتی سل نے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ایک کروڑ روپئے بطور معاوضہ فراہم کرے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دیں


علی گڑھ۔ حکومت اترپردیش سے بی جے پی اقلیتی سل نے 55سالہ عشرت نگا ر کے گھر والوں کو معاوضہ ادا کرنے کا استفسار کیاہے جس کو ایک مقامی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر(ایس ائی) نے 8ڈسمبر کے روز سر میں گولی ماردی تھی۔

اقلیتی سل نے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ایک کروڑ روپئے بطور معاوضہ فراہم کرے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دیں۔

اترپردیش چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کئے گئے ایک مکتوب میں بی جے پی اقلیتی سل نے اپنی درخواست کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کریں اور ایک کروڑ روپئے کی معاشی اورسماجی امداد کریں“۔

مقامی ایڈمنسٹریشن کے ذریعہ اقلیتی سل نے یہ مکتو ب روانہ کیاہے۔

ضلع بی جے پی اقلیتی سل کے نائب صدر فرحین محسن انصاری نے کہاکہ ’متوفی کے گھر والوں کے ساتھ اقلیتی مورچاکھڑا ہے۔ غمزہ گھروالوں کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہم معاوضہ کی مانگ کرتے ہیں“۔

واقعہ کے بعد روپوش ہوجا نے والے ایس ائی منوج شرما کو پولیس نے ہفتہ کے روز علی گڑھ شہر سے گرفتار کرلیاتھا۔شہر کے پولیس اسٹیشن کو حج سے قبل پاسپورٹ کی تصدیق کے لئے آنے والی متاثرہ پچھلے ہفتہ اسپتال میں زخموں سے جانبرنہ ہوسکی۔