ہم نکمّے ہوئے زمانے سے
کام ایسا سکھا دیا تو نے
مغربی بنگال میں ممتابنرجی کو شکست دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کی کوششیں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ پہلے مرحلے میں ریاست کی 152 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جاچکے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 اسمبلی حلقوں کیلئے 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ دوسرے مرحلے کیلئے انتخابی مہم پوری شدت کے ساتھ چلائی جا رہی ہے اور اپنے عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ بی جے پی نے بنگال میں ممتابنرجی کو شکست دینے کیلئے ساری طاقت جھونک دی ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اوروزیر داخلہ امیت شاہ لگاتار بنگال کے دورے کر رہے ہیں۔ لگاتار انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا جا رہا ہے ۔ روڈ شوز کئے جا رہے ہیں۔ کچھ سیاسی اور انتخابی شعبدہ بازیاں بھی چل رہی ہیں۔ کبھی گنگا ندی کی سیر ہو رہی ہے تو کبھی کسی لب سڑک چھوٹی سی دوکان سے کچھ خریدا بھی جا رہی ہے ۔ اس سارے ڈرامہ کو گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے زر خرید اینکرس کی جانب سے انتہائی اہمیت کے ساتھ پیش بھی کیا جا رہا ہے ۔ بنگال میں بی جے پی نے ایک طرح سے سر دھڑ کی بازی لگادی ہے تاکہ ممتابنرجی کو کسی بھی قیمت پرا قتدار سے بیدخل کیا جائے اور خودا قتدار حاصل کرلیا جائے ۔ اس کیلئے بی جے پی نے ہمایوں کبیر جیسے ضمیر فروشوں کی خدمات بھی حاصل کی تھیں۔ انہیں ایک ہزار کروڑ روپئے کی خطیر رقم بھی ادا کی گئی تاکہ وہ مسلمانوں کو ممتابنرجی سے دور کرسکیں۔ ہمایوں کبیر کا تو پردہ فاش ہوگیا ہے تاہم کچھ دوسرے آلہ کار اب بھی بی جے پی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے اس بار اقتدار حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں کے بی جے پی چیف منسٹروں کو بنگال کے دوروں پر لگادیا گیا ہے ۔ مرکزی وزراء بھی لگاتار بنگال پہونچ رہے ہیں اور گودی میڈیا کے سارے تلوے چاٹو اینکرس نے بھی بنگال میں ڈیرہ ڈال لیا ہے ۔ ان سب کی کوشش یہی ہے کہ ممتابنرجی کو اقتدار سے بیدخل کردیا جائے اور بی جے پی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے ۔ اس کیلئے ہر گوشہ سرگرم ہوگیا ہے یا کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی کی اس شدت سے بنگال کے انتحابی نتائج کی اہمیت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا ۔
بی جے پی اپنے خلاف مستحکم انداز میں اٹھنے والی ہر مخالف آواز کو دبانا اور ختم کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی نے اسی وجہ سے ممتابنرجی کو نشانہ بنایا ہے کہ وہ اس کے جال میں پھنسنے کو تیار نہیں ہیں اور مرکزی حکومت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ ممتابنرجی عوامی جدوجہد کی ایک مثال بن کر ابھری ہیں اور انہوں نے بنگال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ انہوں نے ریاست میں ہر طبقہ کے عوام کیلئے بہتر کام انجام دئے ہیں۔ بنگال میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کیلئے بی جے پی نے ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا تھا ۔ کئی حربے استعمال کئے گئے تھے اس کے باوجود بنگال کی فضاء میں فرقہ واریت کو پروان نہیں چڑھا یا گیا ۔ بنگال کے عوام نے ہندو ۔ مسلم کی سیاست کو مستردکردیا ہے اور وہ عملی طور پر ترقی کی سیاست چاہتے ہیں۔ وہ سیاسی ہتھکنڈوں اور حربوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں اور پوری طرح سے سیاسی شعور اور فہم و فراست کا مظاہر کر رہے ہیں۔ جہاں بی جے پی کی فرقہ وارنہ سیاست کو ہندو برادری کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے وہیں بنگال کے مسلمان بھی باشعور ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے جہاں ہمایوں کبیرجیسے ضمیر فروش کا تعاقب شروع کردیا وہیں دوسرے آلہ کاروں کو بھی قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان سب کو بی جے پی نے اپنے انتخابی اور سیاسی فائدہ کیلئے میدان میں اتارا ہے اور ان تمام پیادوں کو ان کی خدمات کی قیمت بھی ادا کی گئی ہے ۔ بنگال کے ووٹرس اور عوام کا یہ سیاسی شعور بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی ستائش کی جانی چاہئے ۔
ایک مرحلہ کی رائے دہی ہوچکی ہے اور ممتابنرجی اور بی جے پی دونوں ہی اس میں اپنی اپنی برتری اور سبقت کے دعوے کر رہی ہیں۔ ممتابنرجی کو ریاست کے عوام کی تائید حاصل ہے تاہم دوسرے مرحلے میں عوام کے ووٹوں پر اثر انداز ہونے کیلئے بی جے پی کی جانب سے بھی بلند بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں۔ کچھ نام نہاد میڈیا ادارے بھی اس معاملے میں نت نئے انداز میں عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ اوپینین پول یا ایگزٹ پول پر امتناع کی وجہ سے دوسرے انداز سے رائے دہندوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بنگال میںبی جے پی کو عوامی تائید حاصل ہو رہی ہے ۔ آثار و قرائن یہی تاثر دے رہے ہیں کہ بنگال میں ممتابنرجی کو شکست دینا بی جے پی کیلئے آسان نہیں ہوگا ۔ تاہم قطعی صورتحال 4 مئی کو نتائج کے ذریعہ ہی سامنے آئے گی ۔
اسرائیل جنگ بندی کی پابندی کرے
اسرائیل ہمیشہ ہی وحشیانہ فوجی کارروائیاں انجام دیتا ہے ۔ جب چاہے اور جہاں چاہے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کرتا ہے ۔ امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے اس نے لبنان میں جنگ بندی سے اتفاق کیا اور پھر اس جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع بھی کی گئی تاہم وہ لبنان میں اب بھی فوجی کارروائیاں کرتا چلا جا رہا ہے اور جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے وقفہ وقفہ سے ایسی کارروائیوں کے نتیجہ میں جنگ بندی کو ہی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ خود اسرائیل فوجی کارروائی کر رہا ہے تاہم حزب اللہ پر الزام عائد کر رہا ہے کہ وہ جنگ بندی کو سبوتاج کرنا چاہتا ہے ۔ جنگ بندی کو اصل سبوتاج خود اسرائیل کر رہا ہے اور وہ جنگ بندی کا قائل ہی نظر نہیں آتا ۔ حقیق معنوں میں جنگ بندی اسی وقت ہوسکتی ہے جب اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں کا سلسلہ روکا جائے اور قیام امن کی کوششوں میں مدد کی جائے ۔ علاقہ میں قیام امن کو یقینی بنانا ہے توا سرائیل پر دباو بڑھانا ہوگا کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ بند کرے ۔ امریکہ کو اس معاملے میں بھی اسرائیل پر اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے ۔