امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود جو سکوت ہے وہ اضطراب آمیز کہا جاسکتا ہے ۔ دونوںملکوں کے مابین جنگ بندی کو مستقل بنانے کیلئے باتچ یت تعطل کا شکار ہو کر رہ گئی ہے ۔ حالانکہ در پردہ کوششیں چل رہی ہیں لیکن ان کے کوئی مثبت اثرات دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں کشیدگی میںاضافہ ہونے لگا ہے ۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ہی دونوں ملکوں کے مابین ایک بار پھر سے جنگ شروع ہوسکتی ہے ۔ ایران آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گذرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے جبکہ اس کے جواب میں امریکہ ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک کو تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے ۔ انتہائی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گذرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ان کو فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے واپس بھیج دیا جا رہا ہے ۔ اب امریکہ کی جانب سے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ہرمز پار کرنے میں مدد دینے کا دعوی کیا جا رہا ہے جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنے موقف کو مزید سخت کرلیا ہے اور یہاں سے گذرنے والے جہازوں کو انتباہ دیا ہے کہ انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا جائے گا ۔ ایک ماہ سے زائد وقت کی خاموشی کے بعد یکا دوکا حملوں کا بھی آغاز ہونے لگا ہے اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جار ہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کسی بھی وقت اچانک ہی صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوسکتا ہے ۔ یہ اندیشے ساری دنیا کیلئے باعث فکر ہیں ۔ ان کے نتیجہ میں ساری دنیا میں الجھن کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوجائے تو پھر اس کے اثرات پہلے مرحلے سے زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ دنیا پہلے ہی فیول سپلائی کے معاملہ میں مشکلات کا شکار ہورہی ہے اور عام آدمی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوجائے تو پھر اس کے اثرات اور بھی زیادہ خطرناک اور سنگین ہوسکتے ہیںجس کی دنیا متحمل نہیں ہوسکتی۔
امریکہ اور ایران دونوں جانب سے ہی اپنے اپنے موقف میںسختی برتی جا رہی ہے اور کوئی بھی اپنے موقف میں کوئی لچک یا نرمی پیدا کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ امریکہ لگاتار دھمکی آمیز رویہ ہی اختیار کئے ہوئے ہے اور وہ چاہتا ہے کہ امریکہ کی شرائط کو ایران تسلیم کرلے ۔ ایران ایسا کرنے کو ہرگز بھی تیار نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی اپنی شرائط پر جنگ بندی ہو ۔ کئی تجاویز کا دونوںملکوں کے مابین تبادلہ بھی ہوا ہے اور ان پر غور کرنے کے دعوے بھی کئے گئے ہیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے ۔ جیسے جیسے وقت گذرتا جا رہا ہے بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ یہ سلسلہ اگر مزید دراز ہوتا ہے تو صورتحال ایک بار پھر دھماکو شکل اختیار کرسکتی ہے ۔ امریکہ کی جانب سے جنگی ساز و سامان کو مجتمع کیا جا رہا ہے تو ایران کا بھی کہنا ہے کہ اس نے تاحال اپنے اصل ہتھیار استعمال ہی نہیں کئے ہیں۔ یہ صورتحال جہاںمشرق وسطی خطہ کیلئے مشکل اور پریشان کن ہے اس سے زیادہ پریشانی ساری دنیا کو ہوسکتی ہے ۔ جو غریب ممالک ہیں یا ترقی پذیر ممالک ہیں ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملہ پر تماشائی بنے رہنے کا سلسلہ ترک کرے ۔ کوئی ملک ذمہ داری سے آگے آئے اور بات چیت کو باضابطہ انداز میں بحال کرے اور کسی نتیجہ پر پہونچنے کی کوشش کی جائے ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر دنیا کو بے تحاشہ مسائل کا شکار ہونے کیلئے تیار رہنا پڑے گا ۔
پہلے ہی گیس اور فیول کی وجہ سے کئی شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں۔ یوروپی ممالک میں تک ہوابازی کا شعبہ شدید متاثر ہوگیا ہے ۔ ہزاروں پروازیں روک دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ زندگی کے عام شعبہ جات پر بھی جنگ کے منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اقوام متحدہ سے چونکہ کوئی امید باقی نہیں رہ گئی ہے ایسے میںروس ‘ چین اور دوسرے ممالک کو اس معاملے میں ذمہ دارانہ رول نبھاتے ہوئے آگے آنے اور بات چیت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ بات چیت بھی محض بات چیت نہ ہو بلکہ کوئی نتیجہ ضرور برآمد ہوسکے ۔ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ ساری دنیا کی بہتری کیلئے ایسا کیا جانا بہت ضروری ہے ۔