حسن اخلاق کی اہمیت

   

ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
حسنِ اخلاق سے مراد انسان کا بہترین، نرم اور شائستہ رویہ ہے جو وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ میل جول میں اختیار کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار دونوں میں اسے انسان کے کردار کا سب سے قیمتی جوہر قرار دیا گیا ہے۔اس کے اہم عناصر شیریں کلامی اور مسکراہٹ، نرم لہجے میں بات کرنا، سخت کلامی سے پرہیز کرنا اور مسکرا کر ملنا، صبر و درگزر، غصے پر قابو پانا، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور انتقام کے بجائے درگزر کا راستہ چنناہے ۔انسان کو عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہوئے تکبر، فخر اور بڑائی سے بچنا اور ہر انسان کو عزت دینا ، قول و فعل میں سچائی رکھنا اور وعدوں کی پابندی کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، دکھ سکھ میں شریک ہونا اور بے لوث بھلائی کرنا چاہئے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔ (جامع ترمذی)حسن اخلاق نہ صرف معاشرے میں امن، محبت اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتا ہے بلکہ انسان کے باطن کو بھی سکون اور بلندی عطا کرتا ہے۔
حسنِ اخلاق صرف عبادات یا رسمی مسکراہٹ کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے باطن کی خوبصورتی کا عملی اظہار ہے۔ یہ فرد اور معاشرے دونوں کی کایا پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے تو بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ میں بہترین اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔ (مؤطا امام مالک)
حسن اخلاق میزان میں سب سے بھاری عمل ہوگا۔ قیامت کے دن نیکیوں کے پلڑے میں اچھے اخلاق سے وزنی کوئی عمل نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ نے طائف کے مظالم اور فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما کر حسنِ اخلاق کی لازوال مثال قائم کی۔سب سے پہلے اپنے گھر والوں، والدین اور شریکِ حیات کے ساتھ نرمی برتنا؛ کیونکہ باہر اچھا بننا آسان ہے جبکہ گھر کے اندر برداشت اصل امتحان ہے۔ ماتحتوں اور کمزوروں کے حقوق ادا کرنا چاہئے ۔ اپنے ماتحت کام کرنے والوں کی غلطیوں پر درگزر کرنا اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، اختلاف کے وقت سخت اور توہین آمیز الفاظ کے بجائے دلیل اور شائستہ لہجہ اختیار کرنا، دل کو کینے اور حسد سے پاک رکھنا، تاکہ زبان و عمل سے بھی پاکیزگی جھلکے۔
جس معاشرے میں درگزر اور سچائی ہو، وہاں جرائم اور تنازعات خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔ دشمن دوست بن جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’برائی کو بھلائی سے دور کرو، پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے گرم جوش دوست‘‘۔ (فصلت: ۳۴)
حسنِ اخلاق کو محض ایک تصور کے طور پر سمجھنے کے بجائے اگر اسے اپنی شخصیت کا مستقل حصہ بنانا ہو، تو اس کے لیے باقاعدہ تربیت اور چند بنیادی نفسیاتی و روحانی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
حسنِ اخلاق پیدا کرنے کے لئے یہ عملی طریقےاختیار کرنا چاہئے : جب شدید غصہ آئے تو فوراً جواب دینے کے بجائے چند سیکنڈ خاموش رہیں، پانی پئیں یا جگہ بدل لیں۔ بے ساختہ ردعمل کے بجائے سوچے سمجھے جواب کی عادت ڈالیں۔دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کی چھوٹی چھوٹی اچھائیوں کا اعتراف کریں اور شکریہ ادا کرنے میں پہل کریں۔گفتگو میں صرف اپنی بات منوانے کے بجائے سامنے والے کے موقف کو مکمل توجہ اور احترام کے ساتھ سنیں۔لوگوں سے بدلے کی اُمید رکھے بغیر اُن کے ساتھ بھلائی کریں۔ جب انسان دوسروں سے توقعات کم کر لیتا ہے تو اس کا اخلاق خودبخود نرم ہو جاتا ہے اور یہ اخلاق کی بنیادی سطحیںہیں ۔ہر معاملت میں عدل (برابری) اختیار کریں۔ جتنا حق بنتا ہے اتنا دینا، اور برائی کا بدلہ صرف برائی جتنا لینا۔ یہ اخلاق کی ابتدائی سطح ہے۔حق سے زیادہ دینا، معاف کر دینا، اور برائی کا جواب بھلائی سے دینا۔ یہ اخلاق کا وہ بلند ترین درجہ ہے جسے اسلام پسند کرتا ہے۔حسن اخلاق کی تکمیل کےلئے روزمرہ کے چھوٹے مگر بااثر اقدامات یہ ہیں۔ جب کسی سے ملیں تو سلام میں پہل کریں اور چہرے پر خندہ پیشانی رکھیں۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت کرنے کے بجائے اس کی اچھائی بیان کریں۔ اپنے لہجے کی تلخی اور طنزیہ جملوں پر مسلسل نظر رکھیں۔حسنِ اخلاق کو محض ایک تصور کے طور پر سمجھنے کے بجائے اگر اسے اپنی شخصیت کا مستقل حصہ بنانا ہو، تو اس کے لیے باقاعدہ تربیت اور چند بنیادی نفسیاتی و روحانی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔