حیدرآباد کے جمس میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ کم ہوگیاہے

,

   

جم کے مالکین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جمس محفوظ مقامات ہیں یہ سمجھنے کے لئے کچھ اور وقت لگے گا۔

حیدرآباد۔ان لاک 3.0کے گائیڈ لائنس کا نفاذ عمل میں آنے کے ساتھ‘ ورزش گاہیں‘

یوگا اور حیدرآباد کے دیگر فٹنس ادارے چند احتیاطی اقدمات کے ساتھ5اگست کے بعد سے دوبارہ کھول دئے گئے ہیں۔

حالانکہ گائیڈس لائنس میں سرفہرست سماجی دوری اور سینٹائزیشن ہیں۔کل کے بعد سے کچھ جمس دوبارہ کھولے گئے ہیں

مگر دیگر جم کے مالکین نے فیصلہ کیاہے کہ آلات کی مکمل صفائی اور دوسرے حفاظتی اقدامات کو بروکار لانے کے بعد ہی وہ اپنے اداروں کو کھولنے کے اقدامات اٹھیں گے۔

مذکورہ فنٹس انڈسٹری کویڈ19کی وباء سے بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ان لاک 3.0کے گائیڈ لائنس میں جمس کے شعبہ سے جڑے لوگوں کے لئے روزگار کی بحالی کی امیدپیدا کی ہے۔

مذکورہ حیدرآباد جم اونرس اسوسیشن نے کہاکہ لوگوں کو یہ بات سمجھنے کے لئے ابھی تھوڑا وقت لگے گا کہ کویڈ سے جم میں وہ متاثر نہیں ہوپائیں گے۔

سکریٹری جم اونرس اسوسیشن نے کہاکہ”پچھلے3-4مہینوں میں 30-40جمس حیدرآباد میں بند کردئے گئے تھے“۔

ان میں سے کئی 50,000سے ایک لاکھ روپئے تک کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر تھے جس کی وجہہ سے وہ بند ہوگئے ہیں۔

ماباقی خود کی مدد کے لئے جدوجہد میں مصر وف ہیں۔کنگ کوٹھی کے ایک جم مالک محمد سہیل نے کہاکہ مذکورہ حکومت نے قبل ازیں جمس کھولنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

جمس میں حفاظتی اقدامات کے متعلق بات کرتے ہوئے جم ٹرینر جی نریش نے کہاکہ‘ جم میں داخل ہونے سے پہلے ہر ایک کے بخار کی جانچ کی جائے گی‘

پھر اس کو مکمل طور پر سنیٹائز کیاجائے گا۔

جم انتظامیہ کی جانب سے ہاتھوں کے دستانے بھی فراہم کئے جائیں گے جس کا صرف ایک مرتبہ استعمال ہوگا۔

جسمانی دوری کو یقینی بنایاجائے گا اور اس کے لئے جم میں صرف 20لوگوں کے داخلے کو منظوری رہے گی۔

موثر فیس ماسک پہننا سب کے لئے لازمی ہوجائے گا۔ جو لوگ جم کو آرہے ہیں ان سے کہاجائے گاکہ وہ اپنا پانی کا بوتل ساتھ لے کر ائیں اور وائرس سے جم کی جگہ کو محفوظ رکھیں۔

ہر سیشن کے بعد مذکورہ جم انتظامیہ احاطے کی صفائی کا کام انجام دے گا۔