خوف کاماحول‘ اس وقت جب میوزیکل دف شکو ک شبہات کی وجوہات بنی

,

   

ایک عجیب وغریب و معاملے میں ایک اوبر کے ڈرائیور ن ممبئی میں اپنے مسافر کو سیدھے پولیس اسٹیشن لے گیا کیونکہ کا ماننا تھا کہ وہ مسافر ملک کا غدار ہے۔مذکورہ مسافر کو 23سال کا جئے پور نژاد شاعر بابتا سرکار تھا جو شہر میں کالا گھوڑا فیسٹول میں شرکت اورشاعری پیش کرنے کے لئے ائے ہوئے تھے۔

معمول کے سوال جواب کے بعد پولیس نے سرکار جوجانے دیا‘ پولیس نے انہیں مشورہ دیاکہ وہ اپنے میوزیکل دف اور سرخ اسکارف کو دورکھیں کیونکہ یہ وقت ٹھیک نہیں ہے۔

اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوسائٹی میں شک وشبہ کی سطح کافی بڑھ گئی ہے۔سیاسی فلاسفر فارنسیس فوکیامہ کے مطابق جہاں پر عدم اعتماد غالب رہتا ہے وہ ناقص معاشرہ ہے۔ ہمارے سیاسی قائدین ان دنوں اعتماد کو ایک معاشرتی خوبی کے طورپر فروغ دینے کا بڑا کام کررہے ہیں۔

ایسے وقت میں جہا ں سیاسی بیان بازیاں عروج پر ہیں‘ لوگوں میں نفرت او راضطراب کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ دہلی کے اسمبلی الیکشن میں اروند کجریوال کو بھی سیاسی مخالفین نے دہشت گرد کے طورپر پیش کیاہے‘

جس میں مرکزی وزیربھی شامل ہیں۔ سیاسی قائدین اس کو اپنے روز مرہ کے عمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں مگراس ان کے الفاظ عام لوگوں پر اثر انداز ہورہے ہیں۔اس کے لئے ”لوجہاد“ کا حربہ مثال کے طور پر موجود ہے۔

ایک وقت میں این ائی اے کو اس کام کے تعقب کے لئے مامور کیاگیاتھا‘ مگر جونیر ہوم منسٹر جی کشن ریڈی نے پارلیمنٹ میں کہاکہ اس ہفتہ مرکزی ایجنسی نے اس کا طرح کا کوئی واقعہ درج نہیں کیاگیاہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بین مذہبی شادیاں سیاسی ہتھیار بن گئے ہیں اور اس کا اختتام نفرت اور اضطراب پر ہورہا ہے۔یہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام سرکاری مشنری اس سے متاثر ہوگئی ہے او رانصاف کے بجائے ناانصافی ہورہی ہے