درود شریف کی برکت سے ہر دعا قبول

   

ڈاکٹر فاطمہ آصف
إِنَّ ٱللّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِيْنَ أَمَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا o
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اور میرے تمام فرشتے سرکارِ دوعالم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں اے مومنو ! تم بھی اس وظیفہ میں میری اور میری فرشتوں کی اقتداء کرو ۔ خدا کے درود بھیجنے سے مراد رحمت کا نازل کرنا اور فرشتوں اور مومنوں کے درود سے مراد اُن کی بارگاہِ رب العزت میں تضرع و دعا کرنا ہے ۔ مومنوں کی طرف سے درود بھیجنے میں رسول اﷲ ﷺ کی تعظیم اور بھیجنے والوں کا بھی فائدہ ہے ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے ، اﷲ تعالیٰ اُس پر دس بار درود بھیجتا ہے ۔
مسلمانو ! رسول اﷲ ﷺ کی خصوصیت اور عظمت جاہ کو دیکھئے کہ اُمت کا ایک بندہ حقیر حبیب خدا ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو اس کا بدلہ خود رب جلیل دیتا ہے اور ایک کے مقابلہ میں دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کے طفیل سے یہ شرف صرف اسی اُمت کو عطا ہوا ہے کیونکہ اس اُمت کے سوا کسی اور اُمت کو اپنے پیغمبر پر درود و سلام بھیجنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ حضرت ابوسلمان عبدالرحمن بن عطیہ درانی نے فرمایا کہ جب تم خدا تعالیٰ سے کچھ مانگو دعا سے آگے اور پیچھے درود پڑھ لیا کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ دونوں طرف کے درود شریف کو تو اپنے کرم سے ہی قبول ہی کرلیتا ہے ۔
علامہ فاسی شرح دلائل الخیرات میں لکھتے ہیں میرے ’’درود شریف کی برکت سے ہر دعا مقبول ہوتی ہے ‘‘ ۔ شیخ ابوطالب مکی نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ ’’جب اﷲ تعالیٰ سے کچھ مانگو تو پہلے درود شریف پڑھو ‘‘ شفا شریف میں ہے کہ حدیث میں آیا ہے ’’درود شریف کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی ‘‘ ۔ خدا تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر احسان کیا ہے کہ اُن کو بھی درود شریف بھیجنے کا حکم دیا تاکہ اُن کو زیادہ فضل و شرف حاصل ہوجائے ورنہ رسول اﷲ ﷺ کو تو اپنے پروردگار کا درود ہی کافی ہے پس مومن کو اپنے رب سے طلب درود کرنا قطاً مقبول ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود خبر دی ہے کہ میں اپنے رسول پر درود بھیجتا رہتا ہوں ۔ باقی تمام دعائیں اور عبادتیں اس کے برعکس ہے لہذا درود شریف کے مقبول ہی ہونے کی سند نص قرآنی ہے ۔