دہلی میں خواتین کی سلامتی

   

قومی دارالحکومت دہلی میں خواتین کی سلامتی اور ان کا تحفظ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔ دہلی میں آئے دن اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں جن کی وجہ سے خواتین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا ہے ۔ سکیوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے مختلف اقدامات ‘ ہزاروں کی تعداد میں سی سی کیمروں کی موجودگی اور مختلف کارروائیوں کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے اور وقفہ وقفہ سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جو انتہائی شرمنااک کہے جاسکتے ہیں۔ ویسے تو دہلی میں دیگر جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے تاہم خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں دہلی دوسری ریاستوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار سے بھی اس بات کی توثیق ہوتی ہے ۔ اب تازہ ترین واقعہ میں ایک خاتون کی چلتی ہوئی بس میں اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آیا ۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دو افراد نے اس کی چلتی ہوئی بس میں عصمت ریزی کی ہے ۔ یہ واقعہ انتہائی شرمناک ہے اور اگر ملک کی خواتین اپنے ہی شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے بھی محفوظ نہیں ہیں تو یہ شرم کی بات ہے ۔ دہلی میں کچھ برس قبل نربھئے واقعہ پیش آیا تھا ۔ وہ بھی اسی نوعیت کا تھا ۔ اس وقت بھی چلتی ہوئی بس میں ایک لڑکی کا جنسی استحصال کیا گیا تھا اور اس کو ایذا پہونچائی گئی تھی اور اس کی موت بھی واقع ہوگئی تھی ۔ اس طرح کے واقعات سارے سماج کیلئے کلنک اور شمندگی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں پولیس اور دیگر نفاذ قانون کی ایجنسیاں ناکام ہی دکھائی دے رہی ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ اس طرح کے شرمناک واقعات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے جن کے نتیجہ میں مجرمین میں قانون کا خوف پیدا ہو اور وہ جرائم کا ارتکاب کرنے سے باز آجائیں۔ جرائم کا مکمل خاتمہ تو شائد ممکن نہ ہو تاہم سخت کارروائیوں کے ذریعہ اس طرح کے واقعات کو کم سے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
اکثر و بیشتر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ دہلی میں خواتین کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کی عصمت ریزی کی جا رہی ہے اور ان پر حملے کرتے ہوئے ان کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ دہلی میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اب بھی دہلی کئی دوسرے میٹرو شہروں سے خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں آگے ہے ۔ دہلی میں ایسا کوئی میکانزم نظر نہیں آتا جس کے ذریعہ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کی جاسکے ۔ دہلی کی سڑکوں اور عوامی مقامات کو خواتین کیلئے محفوظ بنایا جاسکے اور خواتین میں احساس تحفظ پیدا کیا جاسکے ۔ ایک چلتی ہوئی بس میں اپنے کام سے واپس ہونے والی خاتون کو نشانہ بنانا اورا س کی عصمت ریزی کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور وہ بھی خاص طورپر دہلی جیسے کاسموپولیٹن شہر میں اس طرح کے واقعات لا اینڈ آرڈر کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ کئی مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ دست درازی کی جاتی ہے ۔ ان کا جنسی استحصال ہوتا ہے ۔ ان کو بلیک میل کرنے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ ان کو حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی مجرمین گریز نہیں کر رہے ہیں۔ یہ واقعات سارے معاشرہ کیلئے شرمناک ہیں۔ ان واقعات کا سدباب کرنے کیلئے جامع اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملزمین کو سخت ترین سزائیں دلائی جانی چاہئیں تاکہ مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ جرائم سے باز آجائیں۔
دارالحکومت دہلی میں بی جے پی کی حکومت ہے اور مرکز میں بھی بی جے پی برسر اقتدار ہے ۔ دہلی کی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے ۔ بی جے پی ملک کی اپوزیشن اقتدار والی ریاستوں میں خواتین کے عدم تحفظ کا دعوی کرتی ہے اور وہاں پیش آنے والے واقعات پر ہنگامہ آرائی سے گریز نہیں کیا جاتا ۔ تاہم دہلی جیسے شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں بی جے پی حکومتیں پوری طرح ناکام ہو رہی ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو سختی سے روکنے کی ضرورت ہے ۔ خواتین میں عدم تحفظ کا احساس انتہائی افسوسناک ہے ۔ خواتین کے خلاف جرائم کا سدباب حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔