ذات پات کی سیاست

   

ہر گھر کی دیواروں پر تحریرِ اخوت ہو
اس طرزِ نگارش کو ایجاد کریں پھر سے
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے دورہ اترکھنڈ ہلدوانی کے بعد وہاں شدھی کرن کی جو رسم ادا کی گئی ہے اس نے ایک بار پھر سے ملک میں چھوت چھات کے مسئلہ کو اجاگر کردیا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب ہم اکیسویں صدی کی بھی ڈھائی دہائیاں پوری کرچکے ہیں اور دنیا چاند پر پہونچ رہی ہے اور ترقی کی منزلیں طئے کرتی جا رہی ہے ہم اب بھی ذات پات اور چھوت جیسی رسومات کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے یہ تاثر عام ہو رہا تھا کہ ملک میں چھوت چھات کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے اور ذات پات کی سیاست بتدریج دم توڑنے لگے گی تاہم ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی ہم قبیل تنظیمیں اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ ہندوستان نفرت کی سیاست ‘ ہندو ۔ مسلم منافرت اور ذات پات کے مسائل سے اوپر اٹھے اور سماج و معاشرہ میں یکسانیت کو فروغ حاصل ہو ۔ ملک میں ذات پات اور چھوت چھات کی بیماری نے ایک طویل عرصہ تک اپنا دبدبہ بنائے رکھا تھا ۔ بڑھتے شعور کے ساتھ اس دیرینہ اور فرسودہ روش کو ترک کیا جا رہا تھا لیکن اب اچانک ایسا لگتنے لگا ہے کہ یہ بیماری ابھی جڑ سے ختم نہیں ہوئی ہے اور اس کے جراثیم اب بھی کئی لوگوں اور تنظیموں کے ذہنوں میں موجود ہیں ۔ ملکارجن کھرگے نے گذشتہ ماہ اترکھنڈ کے ہلدوانی کا دورہ کیا ۔ وہاں انہوں نے ایک پروگرام میں شرکت کی ۔ ان کی واپسی کے بعد کچھ ہندو تنظیموں کی جانب سے اس مقام کو پاک کرنے پوجا کی گئی ۔ یہ ہندوستان کو ذات پات کے اندھیروں میں ڈھکیلنے کی کوشش ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم اب بھی اس بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں اور پسماندہ طبقات کے ساتھ بھید بھاؤ کا سلسلہ جاری ہے ۔ ویسے تو یکا دوکا واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں لیکن اگر کانگریس جیسی قومی جماعت کے صدر کے ساتھ بھی اس طرح کا بھید بھاؤ ہوتا ہے تو اس سے مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ واقعہ سارے ملک اور سماج کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہئے ۔
کچھ مٹھی بھر افراد کی جانب سے یہ حرکت کی گئی ہے لیکن اس سے اس ذہنیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے جو اب بھی برقرار ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی اوچھی حرکت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے بی جے پی اور اس کے قائدین کی جانب سے اس کی شکایت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کے قائدین اس حرکت کو چھوت چھات یا ذات پات کا بھید بھاؤ قرار دینے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ یہ بی جے پی کی مخالف دلت ذہنیت کی عکاسی کرنے والا مسئلہ ہے ۔ بی جے پی ہو یا کوئی اور جماعت ہو سبھی کو ذات پات کی سیاست کو ترک کرنے کی ضرورت ہے اور بھید بھاؤ کا جو سلسلہ برقرار ہے اس کو ختم کرنے کا عزم کرنا چاہئے ۔ بھید بھاؤ میں یقین رکھنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ چونکہ یہ مسئلہ کانگریس کے قومی صدر کے ساتھ ہوا ہے اس لئے بی جے پی اس پر کسی طرح کی کارروائی کرنا نہیں چاہتی ۔ حد تو یہ ہے کہ اس مسئلہ پر کارروائی کا مطالبہ کرنے والے قائد اپوزیشن راہول گاندھی کے خلاف ہی اترکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے ایف آئی آر کردیا ہے ۔ اس طرح کے ایف آئی آر مضحکہ خیز کہے جاسکتے ہیں جبکہ اصل میں ایف آئی آر ان بیمار ذہنیت والے عناصر کے خلاف کیا جانا چاہئے تھا جنہوں نے چھوت چھات کی رسم کو ہوا دی ہے ۔
ویسے بھی ملک میں پسماندہ طبقات اکثر و بیشتر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف بھید بھاؤ کا سلسلہ جاری ہے تاہم اعلی ترین سطح پر بھی اس طرح کے واقعات کا پیش آنا تشویش کا باعث کہا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی کو اس مسئلہ پر سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اگر نہیں کی گئی تو یہ ملک اور معاشرہ کیلئے منفی مثال قائم کرنے کے مترادف ہوگا ۔ اس مسئلہ پر بی جے پی کو سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔