زرعی قرض معافی کے مطالبہ پر مقدمات کی مذمت

   

نظام آباد۔18 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )  سابق وزیر و رکن اسمبلی بالکنڈہ پرشانت ریڈی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرض معافی کا مطالبہ کرنے پر کمرپلی کے بی آر ایس قائدین اور کسانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ بالکنڈہ حلقہ میں 52 ہزار کسان قرض معافی کے مستحق ہیں لیکن حکومت نے صرف 22 ہزار کسانوں کو ہی فائدہ پہنچایا جبکہ باقی 30 ہزار کسانوں کو نظرانداز کیا گیا۔ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے بی آر ایس قائدین اور کسانوں پر مقدمات قائم کرکے گزشتہ دو برسوں سے انہیں عدالتوں کے چکر لگوائے جا رہے ہیں، جو کانگریس حکومت کی آمرانہ طرز حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔سابق وزیر پرشانت ریڈی نے آج آرمور عدالت میں پیشی کے موقع پر کہا کہ کسانوں کا مکمل قرض معافی کا مطالبہ جائز ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس پر عمل کرنا چاہیے۔