سعودی نے بھاری مقدار میں برآمد کے ساتھ تیل کی قیمت پر جنگ کو بڑھاوا دیا ہے۔ روس کے ساتھ بات چیت کو بھی کیامسترد

,

   

دوبئی۔ سعودی عربیہ نے منگل کے روز روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں جنگ کو آگے بڑھایا ہے کیونکہ اس کے سرکاری کمپنی نے اگلے ماہ سے فی یوم 12.3ملین بریلوں کا ریکارڈ سپلائی کا عہد لیاہے‘ جس سے مارکٹ کے بھاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوجائے گا۔

مذکورہ سپلائی میں 25 فیصد سے بھی زیادہ کا اضافہ پھر پچھلے ماہ کے پیدوار نے آرمکو کو اس کی زیادہ سے زیادہ پیدوار میں سرفہرست رکھا ہے‘

اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ مملکت کی مارکٹ میں جتنا جلدی ہوسکے اتنا خام تیل کا ذخیرہ جمع کرنے کی اس کی حکمت عملی کا یہ بھی ایک حصہ ہے۔

ماسکو نے منٹوں کے اندر اس پر ردعمل پیش کیا اور توانائی کے وزیر الکزینڈر نواک نے کہاکہ روس فی یوم500,000بریل پیدوارکی صلاحیت کو اجاگر کررہا ہے۔

اس سے ملک کی پیدوار فی یوم 11.8ملین بریل تک پہنچ جائے گی جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ بھی ہے۔ ابوظہبی نژاد کنسلٹنٹ گروپ مانار کے ایم ڈی جعفر عطالیا نے کہاکہ ”سعودی عربیہ اور روس کے درمیان میں یہاں پر مارکٹ کے اندر ایک بڑی رقم دیکھائی دے رہی ہے۔

مذکورہ دونوں قیمتوں کی ایک جارحانہ لڑائی کی تیاری کررہے ہیں“۔ان دونوں سابق دوستوں کے درمیان میں طویل مدت تک جاری رہنے والے شدید کشیدگی کا یہ تازہ معاملہ ہے۔

پٹرولیم کی برآمد کرنے والے والے ممالک کی دیگر تنظیموں نے بھی کو فالو کیاہے عراق کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ سے فی یوم 350,000بریل کی ترسیل کا اضافہ کرے گا اور نائجریہ نے بھی 100,000سے زائد کے اضافہ کا اعلان کیاہے۔

مذکورہ مارکٹ کو غیریقینی حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو کرونا وائریس سے پیدا ہوئی کمی کو تاریخی مطالبہ کے ساتھ بھاری سپلائی کے ذریعہ کم کیاجارہا ہے۔

پیر کے روز خام تیل میں 25فیصد کی تقریبا گرواٹ ائی ہے‘ جو پچھلے تیس سالوں میں ائی سب سے بڑی ایک روز کی کمی تھی‘ جس نے عالمی حصاص بازار اور مارکٹ کو تباہ کردیاتھا۔

منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں عالمی مارکٹ میں کمی کے ساتھ تیزی ائی۔ امریکہ خام تیل 10.4فیصد سے 34.36امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا۔

درایں اثناء مذکورہ امریکہ نے مارکٹ شیئر کی جنگ میں جو او پی ای سی پلس ساتھیوں کو ٹوٹنے کے بعد پیدا شدہ خطرے کے پیش نظر اپنے ردعمل تیز کردیاہے۔

مذکورہ امریکہ نے ملک کے ایمرجنسی انجماد سے بارہ ملین بیرال تیل کی فروخت کے منصوبے کو منسوخ کردیا ہے۔

معاملے سے واقفیت رکھنے والے دو لوگوں کے مطابق ملک میں تیل کی درآمد میں اضافہ کے ولی عہد کی جانب سے اعلان سے قبل صدر امریکہ نے محمدبن سلمان سے فون پر بات بھی کی تھی۔

نٹ ورک میں شامل دیگر ممالک جیسے نائجریہ‘الجریا اور متحدہ عرب امارات نے اس بات کا اشارہ دیاہے کہ مفاہمت آگے بڑھنے کا ایک راستہ ہوسکتا ہے کیونکہ تقسیم کا مارکٹ پر پچھلے ہفتہ خراب اثر ظاہر ہوا تھا۔