سی اے اے کے خلاف احتجاج بھڑکانے کے معاملے میں اوکھلا وہار کے ساکن کشمیری جوڑی کی غداری کے تحت گرفتاری

,

   

نئی دہلی۔ساوتھ دہلی کے اوکھلا وہار میں جامعہ نگر کے قریب رہنے والے ایک کشمیری جوڑے کو اتوار کے روز دعوۃ اسلامی خراساں صوبہ(ائی ایس کے پی) سے مبینہ رابطے‘شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج بھڑکانے اور ملک کے دو طبقات کے درمیان نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا ہے‘ دہلی پولیس نے یہ جانکاری دی ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (اسپیشل سل) پرمود کمار خوشواہا نے کہاکہ مذکورہ دونوں 36سالہ جہاں زیب سمیع اور اس کی بیوی 39سالہ حنا بشیر بیگ کو دو گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور سیڈیشن کے لئے ائی پی سی کی دفعہ 124اے اور153اے اور اس کے علاوہ یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرلیا گیاہے۔

خوشواہانے مزیدکہاکہ ”جہاں زیب سمیع36‘ اور بیوی حنا بشیر بیگ39کشمیر میں سری نگر سے تعلق رکھنے والے جوڑے کو ایک اپریشن کے دوران اوکھلا وہار میں ان کے کرایہ کے مکان سے گرفتار کیاگیاہے۔

ان کے قبضے سے ائی ایس ائی ایس اور سی اے سے متعلقہ کئی لٹریچر اورملک اور دیگر طبقات کے خلاف نفر ت بھڑکانے والا مواد دستیاب کیاگیاہے“۔

دونوں کے قریبی مانے جانے والے گرفتاری کے بعد اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لئے فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔

پچھلے ڈسمبر میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نیا شہریت قانون منظور کئے جانے کے بعد سے دہلی او ر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

پچھلے ہفتہ مذکورہ قانون کی مخالفت اور تائید کرنے والے گروپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ نے فرقہ وارانہ فسادات کا رنگ اختیار کرلیاتھا اور ان فسادات میں کم سے کم53لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

اتوار کے روز ڈی سی پی خوشواہا نے کہاکہ دو ممنوعی دہشت گرد تنظیموں کے ممبران غیرمسلموں کے خلاف نفرت بھڑکانے کا پروپگنڈہ کررہے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس سے غیر مسلموں کو قتل کرنے کے لئے بھی اکسانے والا مواد بھی ملا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”انہوں نے مسلمانوں وک ریاست اور سی اے اے کے خلاف پرتشدداحتجاج کے لئے اکسایا ہے“۔ مذکورہ ائی ایس کے پی افغانستان نژاد دعوۃ اسلامی ہے۔

ایک سینئر افیسر جو اپریشن سے وابستہ رہے ہیں جس میں دو لوگوں کوحراست میں لیاگیا ہے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ مذکورہ جوڑا ائی ایس کے پی کے سینئر ممبرس سے افغانستان میں رابطہ میں تھا تاکہ سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کا استحصال کیاجاسکے۔

سمیع کے متعلق ائی بی کے ایک افیسر کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گروپ کے ممبران سے رابطہ میں تھا۔

پولیس کے مطابق سمیع جو کہ ایک بی ٹیک گریجویٹ ہے وہ کئی ویب ڈائزین کمپنیوں کے ساتھ کام کرچکا ہے‘ وہیں اس کی بیوی کے پاس ایم بی اے کی ڈگری ہے اور وہ ایک خانگی بینکوں اور سکیورٹی کمپنیوں میں کام کرچکی ہے