ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن میں مدد کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزام میں صحافیوں کے خلاف درج بہت سے مقدمات ثبوت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ ایک بری مثال قائم کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی 5 اگست کے روز معزولی اور پھر ملک سے فرار ہونے کے بعد سے ان صحافیوں کو قانونی چارہ جوئیوں کا سامنا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر پرتشدد مظاہروں کے دوران شیخ حسینہ کی حکومت اور ان کی عوامی لیگ پارٹی کی حمایت کی تھی۔ڈھاکہ کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ناہید اسلام، ایک طالب علم کارکن جو اب وزارت اطلاعات و نشریات کی قیادت کررہے ہیں اور عبوری حکومت کے میڈیا مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں، نے کہا ہیکہ بالواسطہ طور پر رائے عامہ کو تشکیل دے کر بڑے پیمانے پر قتل عام کی حمایت کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔اگست کے اواخر میں بنگلہ دیش کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ حسینہ کی حکومت کے خلاف حکومت مخالف ہفتوں کے مظاہروں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔عبوری حکومت کے ایک مشیر اے ایف حسن عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگر تفتیشی ایجنسیوں کو ملزم صحافیوں کو پانچ اگست کے بعد درج مقدمات سے منسلک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو وہ الزامات سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی شکایات انتظامیہ کے اہلکاروں نے شروع نہیں کیں، بلکہ عوام کے ارکان کی طرف سے دائر کی گئیں۔ عارف نے بتایاکہ اگر ان مقدمات کو بے بنیاد تصور کیا جائے تو، ملزمین کے پاس ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا اختیار ہے تاکہ انہیں خارج کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ حکومت کے پاس افراد کو مقدمات درج کرانے سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی پولیس شکایات سے انکار کر سکتی ہے۔مقدمات میں ملزمان کو ضمانت دینے کے حوالے سے عارف نے وضاحت کی کہ یہ عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ایک اور حکومتی مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر صحافیوں کی گرفتاری کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ عبوری انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔