طلبہ اورپولیس کے درمیان تصادم کے ایک روز بعد جامعہ میں شہریت ایکٹ کی وجہہ سے امتحانات ہوئے ملتوی

,

   

ہفتہ کے رو ز بھی احتجاج کا سلسلہ ہنوز جاری رہا‘ مگر اس کی شدت کم تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میٹرو اسیٹشن داخلہ کے لئے بند رہا اور کچھ گھنٹوں کے لئے ایکزٹ بھی بند رہی۔

نئی دہلی۔ کیمپس میں نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے پیش نظر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہفتہ کے روز یونیورسٹی کے تمام امتحانات ملتوی کرنے اور 5جنوری تک تعطیلات کااعلان کردیاہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس میں راجسٹرار اے پی صدیقی نے کہاکہ ”سرمائی تعطیلات 16ڈسمبر سے5 جنوری تک اعلان کردی گئی ہیں۔

یونیورسٹی دوبارہ 6جنوری کے روز کھلے گی۔ یہاں پرہونے والے تمام امتحانات کوملتوی کردیاگیاہے۔ امتحانات کی دوبارہ تاریخی کا اعلان امتحانات کے کنٹرولر متعلقہ کورسس میں یونیورسٹی کی ویب سائیڈ پر کیاجائے گا“۔

اس میں مزیدکہاگیا ہے کہ ”تمام ڈینس‘ ایچ او ڈیز‘ ڈائرکٹر برائے کورسس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اساتذہ کو آج تک منعقد ہ امتحابات کی ایوارڈ لسٹ حوالے کرے اور بالترتیب ان کے محکموں میں میٹنگیں منعقد کریں تاکہ یونیورسٹی کے دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی امتحانات کی تاریخ کا اعلان کیاجاسکے۔

YouTube video

تعلیمی سال کے مطابق سرمائی تعطیلات 24ڈسمبر سے 15جنوری تک رہتی ہیں۔جمعہ کے روز جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں احتجاج کیاجارہا تھا اس وقت طلبہ

اور پولیس جوانوں کے درمیان میں تصادم کاواقعہ پیش آیا‘ مظاہرین کے ایک حصہ نے پتھربرسائی تو دوسری جانب سے پولیس نے لاٹھی ارج کیا‘ اور اس نے آنسو گیس کا بھی استعمال کیاتھا۔

ہفتہ کے رو ز بھی احتجاج کا سلسلہ ہنوز جاری رہا‘ مگر اس کی شدت کم تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میٹرو اسیٹشن داخلہ کے لئے بند رہا اور کچھ گھنٹوں کے لئے ایکزٹ بھی بند رہی۔

مظاہرین میں شبنم ہاشمی جیسے سماجی جہدکار بھی شامل تھیں جنھوں نے کہاکہ”ہماری عمر کے لوگ یہ سونچ کر فکر مند تھے کہ ہمارے مرنے کے بعد ایسی سرگرمیوں کا کیاہوگا‘ لیکن جامعہ کے طلبہ نے جو کیاہے وہ مشعل ہزاروں طلبہ کوروشنی دے گی“۔

احتجاج میں شامل بی اے کی ایک طالب علم عائشہ اختر نے کہاکہ ”نیا قانون ائین کے خلاف ہے۔

وہ ہمارے ائین پر حملہ کررہے ہیں اور میں سمجھتی ہوں ہر شخص کو اس کی مخالفت کرنے کی ضرورت ہے‘ اس احتجاج کو اقلیتی طبقات تک محدود رہنے نہیں دینا چاہئے۔

ہماری موجودگی ائین کانتیجہ ہے جس کو وہ ختم کردیناچاہتے ہیں“۔