فرانسیسی صدر کا اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کا مطالبہ

   

ایمانوئیل میکرون کا مطالبہ توہین آمیز‘نیتن یاہوکا شدید ردعمل

پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال کرنے کے لیے فراہم کیے جانے والے اسلحے کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی حل کے لیے یہ ضروری ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ردعمل میں سخت تنقید کی اور اس سے توہین قرار دیا۔ میڈیا کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ غزہ تنازعہ میں استعمال کے لیے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کا عمل روک دیا جائے کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کے لیے وسیع کوششیں ممکن ہوں۔فرانس ریڈیو کو انٹرویو میں میکرون نے کہا کہ اولین ترجیح مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ہے اور اس کے لیے غزہ میں لڑنے کے لیے اسلحے کی فراہمی روک دی جائے اور فرانس کی جانب سے کوئی اسلحہ نہیں بھیجا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری ترجیح کشیدگی روکنا ہے، لبنانی عوام کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے اور لبنان دوسرا غزہ نہیں بن سکتا۔ فرانس نے گزشتہ برس 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کے فوجی آلات فروخت کیے گئے تھے۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ردعمل میں میکرون سمیت اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کرنے والے دیگر مغربی رہنماؤں کو مخاطب کرکے کہا کہ انہیں شرم آنی چاہیے۔ ان کی حمایت ہو یا نہ ہو اسرائیل یہ جنگ جیت جائے گا اور اسلحے کی فروخت پر پابندی ہماری توہین ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس وقت 7 محازوں پر لڑ رہا ہے مگر اس کے باوجود فرانسیسی صدر اور دیگر مغربی لیڈرز کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی بات کی جارہی ہے جو شرمناک ہے۔ واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گزشتہ روز اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ کے لیے اسرائیل کو ہتھیار دینے پر پابندی ترجیح ہونی چاہیے۔