فیصلہ کن لڑائی ‘ اپوزیشن کی ضرورت

   

الیکشن کمیشن کی جانب سے جانبدارانہ طرز عمل اور من مانی و یکطرفہ فیصلوں کے الزامات پر اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا ایک اجلاس آج منعقد ہوا ۔ اتحاد میںش امل کئی جماعتوں کے قائدین اس میں شریک رہے ۔ کانگریس صدرم لکارجن کھرگے کے علاوہ سونیا گاندھی‘ راہول گاندھی اور دوسرے قائدین نے بھی شرکت کی ۔ انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں 2 اکٹوبر سے 8 اکٹوبر تک جمہوریت بچاؤ ریلیاں منظم کی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ 6 اکٹوبر کو الیکشن کمیشن تک یہ جماعتیں مارچ کریں گی ۔ اس کے علاوہ کئی اور بھی احتجاجی پروگرامس اور حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن میں جاری بدعنوانیوںاور من مانی و یکطرفہ فیصلوں کے خلاف مہم ملک گیر سطح پر چلائی جائے گی اور ملک میں انتخابات کو دوبارہ بیالٹ پیپر کے ذریعہ کروانے کے مطالبات کو پیش کیا جائے گا ۔ انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے احتجاج کا فیصلہ تو کرلیا ہے تاہم ان تمام جماعتوں کو ایک بار ضرور ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ انہیں صرف علامتی احتجاج یا مظاہروں سے کوئی کامیابی ملنے والی نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کو ملک گیر سطح پر انتہائی منظم انداز میں عوام کی شراکت داری کے ساتھ اٹھایا جانا چاہئے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ خود اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے علاوہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو مسلسل کوشش کرنی چاہئے کہ تمام اس میں متحد رہیں۔ ایک جٹ ہو کر مشترکہ تجاویز کے ذریعہ پروگرام طئے کیا جائے اور بہر صورت عوام تک یہ لڑائی پہونچائی جائے ۔ اپوزیشن کیلئے الیکشن کمیشن کے خلاف فیصلہ کن لڑائی ضروری ہے ۔ یہ ملک کے جمہوریت اور جمہوری عمل کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کا مسئلہ ہے اور اس کے ذریعہ ملک میں جاری سیاسی اجارہ داری اور انتخابی عمل کو داغدار کرنے کے سلسلہ کو روکا جاسکتا ہے ۔ اس سلسلہ کو مزید دراز ہونے سے روکنا اپوزیشن کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔
صرف علامتی احتجاج یا بیان بازیاں اس مسئلہ کو اس کے منطقی انجام تک نہیں پہونچا سکتے ۔ اس کیلئے ملک گیر سطح پر عوامی تحریک اور احتجاج شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کا کوئی شہر اور کئی ریاست ایسی نہیںہونی چاہئے جہاں یہ مسئلہ موضوع بحث نہ بنے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے انہیں ان کے حق کے تعلق سے واقف کروایا جاسکتا ہے ۔ ملک میں 13 کروڑ ووٹوں کا حذف ہونا معمولی بات نہیں ہے ۔ یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے کہ کس طرح سے ٹارکٹ کرتے ہوئے اپوزیشن کے قائدین کا یکے بعد دیگرے صفایا کیا جا رہا ہے ۔ چیف منسٹر کے عہدوں پر موجود قائدین کو شکست سے دوچار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ا س کے ذریعہ اپوزیشن کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اروند کجریوال ہوں کہ ایم کے اسٹالن ہوں ‘ ادھو ٹھاکرے ہوں یا ممتابنرجی ہوں یکے بعد دیگرے سبھی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں کسی بڑے لیڈر کو شکست نہیں ہوئی ہے لیکن لگاتار یہ سلسلہ دراز ہونے شبہات کو مزید تقویت دینے کا سبب بن رہا ہے ۔ اپوزیشن کی سیاسی طور پر کمر توڑنے کی کوششیں منظم انداز میں چلائی جا رہی ہیں اور یہ کوششیں در اصل ملک کے جمہوری طرز حکمرانی اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور یہ ملک کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔ جمہوری عمل کا تحفظ کرنے اپوزیشن کو کسی تن آسانی سے کام نہیں لینا چاہئے ۔
2024 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے کمزور مظاہرہ کے بعد جس طرح سے کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں نتائج میں الٹ پھیر دیکھا گیا ہے وہ موجودہ صورتحال میں معمول کے مطابق دکھائی نہیںدیتا ۔ اس سارے معاملہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر جدوجہد کو ملک کے ہر گاوں اور دیہات تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ عوامی شعور بیدار کرتے ہوئے اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے میں اپوزیشن جماعتوںکو بڑھ چڑھ کر آگے آنا چاہئے ۔