قرآن میں لفظِ اُمت کا تصور

   

مولانا قاضی اسد ثنائی
انسانی تاریخ میں بہت سے رشتے بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں، مگر ایک رشتہ ایسا ہے جسے خود قرآن نے ہمارے وجود کی پہچان بنایا ہے اور وہ رشتہ اُمت ہے۔ دنیا میں قومیں رنگ، نسل، زبان اور وطن کی بنیاد پر بنتی ہیں جو وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں، مگر قرآن نے ہمیں ایک ایسے رشتے سے جوڑا جو ان سب سے بلند ہے۔ اللہ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا کہ تم فلاں نسل سے ہو تو تمہاری پہچان ہے، بلکہ فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کہ تمہاری پہچان یہ ہے کہ تم ایک بہترین اُمت ہو۔
قرآنِ کریم میں جب ہم لفظ اُمت پڑھتے ہیں تو عام طور پر ہمارے ذہن میں صرف مسلمان قوم کا تصور آتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے اس لفظ کو اتنی وسعت اور گہرائی کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ اس میں پوری کائنات کا نظام سمٹ آتا ہے۔آج کے اس پر فتن دور میں جہاں اُمت کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے اور قومیت، لسانیت اور فرقہ واریت نے اُمت کے شیرازے کو منتشر کر دیا ہے۔
عربی میں اُمت کا مادہ ’’ ا-م-م‘‘ہے۔ اس مادے کا بنیادی معنی ہے قصد کرنا، ارادہ کرنا، کسی کی طرف متوجہ ہونا۔ اسی سے امام بنا، یعنی وہ شخص جس کی طرف سب متوجہ ہوں اور جس کے پیچھے چلیں۔ اور اسی سے اُمّ (ماں) بھی ہے کیونکہ اولاد کا سارا قصد اور توجہ ماں کی طرف ہوتی ہے۔
اُمت بمعنی جماعت، قوم اور گروہ یہ سب سے مشہور استعمال ہے۔اس سے مراد انسانوں کا وہ گروہ ہے جو کسی ایک نبی کی دعوت پر، ایک ہی عقیدے اور ایک ہی نظامِ زندگی پر جمع ہو۔ یہ محض ہجوم نہیں بلکہ نظریاتی وحدت کا نام ہے۔یہاں اُمت کا مطلب ہے ایک خاص مقصد والی قوم۔ ہماری بہتری ہماری تعداد یا طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس فریضے کی وجہ سے ہے جو ہمیں دیا گیا۔ اگر ہم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیا تو ہم خیر اُمت کے لقب کے حقدار نہیں رہیں گے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے تھے، لیکن اللہ نے انہیں اُمت کہا۔ کیوں؟ مفسرین فرماتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں پوری امت کی خوبیاں جمع کیے ہوئے تھے، وہ اکیلے ہی ایمان، توحید، صبر، سخاوت اور تسلیم و رضا کا نمونہ تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت روئے زمین پر ابراہیم علیہ السلام کے سوا کوئی موحد نہ تھا، اس لیے اللہ نے انہیں اکیلے کو ہی اُمت قرار دیا۔ گویا جو کام ایک پوری اُمت کرتی ہے، وہ ایک ابراہیم علیہ السلام نے تنہا کر دکھایا۔ یہ ان لوگوں کے لیے پیغام ہے جو کہتے ہیں ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں، اکیلا انسان بھی اگر حق پر ہو تو وہ ایک اُمت ہوتا ہے۔جانوروں اور پرندوں کی اُمتیںقرآن نے اس لفظ کو انسانوں سے نکال کر پوری کائنات پر پھیلا دیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں لفظِ اُمت کی لاج رکھنے والا، اس کی ذمہ داری کو سمجھنے والا، اور اسے اپنی زندگی میں زندہ کرنے والا بنا دے۔ ہمیں وہ اُمت بنا دے جسے دیکھ کر ہمارے نبی ﷺ قیامت کے دن فخر فرمائیں۔ آمین۔