بیروت: لبنان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں اور بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے لبنان میں 830,000 سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر بے گھر ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8 اکتوبر 2023 سے 834,746 اندرونی طور پر بے گھر افراد کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ ان میں سے 52 فیصد خواتین ہیں۔ 189,298 بے گھر افراد 1,100 پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ ان پناہ گاہوں میں سے 935 پناہ گاہیں یعنی 84 فیصد پناہ گاہوں میں مزید افراد کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 23 ستمبر 2023 کو حزب اللہ کے خلاف آپریشن شمالی تیر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یکم اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اسرائیل کے ساتھ جلد جنگ بندی کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بدھ کو ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں زور دیا ہے کہ ہمارا مقصد لبنان کی حفاظت کرنا اور اسرائیلی بمباری کو روکنا ہے۔