محمد مبشرالدین خرم
جنگ بندی کے دوران جاری مذاکرات میں آنے والی تیزی کے ساتھ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے موقف میں آنے والی حیرت انگیز تبدیلی نے دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک کو جو امریکہ کی برتری کو تسلیم کئے ہوئے تھے انہیں بھی اب اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے ان متبادل ممالک سے تعلقات استوار کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ جن ممالک کو ایران۔اسرائیل و امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ سے قبل حاشیہ پر رکھنے کی ممکنہ کوشش کی جاتی رہی ہے۔ امریکہ کے حلیف ممالک بلکہ امریکی پالیسیوں پر من و عن عمل آوری کرنے والے ممالک کے سربراہان کے تبدیل ہوتے ہوئے موقف سے یہ بات اب ثابت ہونے لگی ہے کہ دنیا تیزی سے نئے محاذ تشکیل پانے لگے ہیں اور یہ نئے محاذ اسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی غیر دانشمندانہ پالیسی اور عالمی پولیس کے کردار کی بھی نفی کرنے لگے ہیں ۔ دنیا بھر میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کی اب تک کی کوششیں ایران۔اسرائیل و امریکہ کی جنگ کے دوران NATO کی جانب سے جنگ میں شامل نہ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی نقصان پہنچنے لگا تھا لیکن اب جبکہ سعودی عرب نے باضابطہ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی مرہون منت اپنے صیانتی امور نہیں رکھ سکتا اور یوروپی ممالک کے سربراہان کی چین سے بات چیت کے دورشروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بات دنیا بھر میںتسلیم کی جانے لگی ہے کہ دنیا پر امریکہ اپنے تسلط اور برتری کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکا ہے ۔ ایران و اسرائیل کے مابین جاری جنگ بندی کے درمیان دنیا بھر کے کئی ممالک میں نئے سفارتی دور کا آغاز امریکہ کے مستقبل کے لئے اچھا نہیں ہے اور اب دنیا یہ کہنے لگی ہے کہ امریکی حکمراں کو ملک کی نہیں بلکہ اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ امریکہ کا نظام حکومت جمہوری انداز میں امریکی عوام نے ایک ’’تاجر‘‘ کے ہاتھ میں دیا ہے جس کے خمیازہ اب وہ بھگت رہے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ نظام حکومت چلانا اور اپنے کاروبار چلانا دونوں مختلف ہیں اور جب نظام حکومت ’تاجرین‘ کے ہاتھ میں آجاتا ہے تو ایسی صورت میں تاجر کی ترجیح ملک نہیں بلکہ اس کا کاروبار ہوتا ہے ۔تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہو یا دنیا کی معیشت سے عربوں ڈالر کا غائب ہوجانا ہو ‘ دنیا کے کمزور ممالک کی حالت غیر ہوجائے یا دنیا کے وہ ممالک جو امریکی کالونیاں بنے ہوئے ہیں ان میں کوئی آفت آجائے ان سب کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لیاجائے تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اپنی اور اپنے خاندا ن کے تجارتی فائدے کو نظر میں رکھتے ہوئے کئے جانے والے فیصلہ ہیں۔
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے پہلے مرحلہ کے دوران ہونے والی بات چیت کے دوران ایران کے سخت موقف نے دنیا پر اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ایران جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار ہے اور طویل مدتی جنگ سے بھی وہ خائف نہیں ہے لیکن اگر مذاکرات کے ذریعہ ’’قیام امن ‘‘ ممکن ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں وہ امن کے لئے پہل کرنے آمادہ ہے اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ’قیام امن‘ کا مطلب محض جنگ بندی نہیں ہونی چاہئے بلکہ مستقل امن کے لئے وہ ضروری اقدامات ناگزیر ہیں جو فلسطین ‘ غزہ ‘ لبنان ‘ یمن ‘ بحرین میں نقص امن کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران کے حکمراں اپنی طاقت وجرأت کے مظاہرہ سے گریز نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی طاقت کی نمائش اور اپنے حوصلوں کو دنیاکے آگے پیش کرتے ہوئے باطل کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی و سفارتی پالیسیوں کے ذریعہ دشمن ممالک کے درمیان اختلافات کو بھی فروغ دینے میں کامیاب ہونے لگے ہیںاور اس کی مثال سعودی عرب کے موقف میں آنے والی تبدیلی ہے جو سعودی عرب ایران جنگ کی ابتداء سے ہی امریکہ پر یہ دباؤ بنا رہا تھا کہ ایران کو مٹادیا جائے اور امریکہ برملا اس بات کا اعلان کررہا تھا کہ سعودی فرمانرواں ایران کو تباہ کرنے کے لئے انہیں نہ صرف اپنی فضائی پٹی ‘ فوجی ٹھکانے بلکہ جنگی اخراجات بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہے لیکن امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان اور’اسلام آباد‘ مذاکرات کے آغاز اور ان میں ہونے والی پیشرفت نے سعودی عرب کے ہوش ٹھکانے لا دیئے ہیں اور وزیر خارجہ سعودی عرب نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی طویل ٹیلی فونی بات چیت کے بعد جو اعلان کیا ہے وہ امریکہ کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے کیونکہ سعودی عرب خطہ میں امن کے لئے نہ صرف ایران و امریکہ میں طویل مدتی جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کرنے لگا ہے بلکہ ’’آبنائے ہرموز ‘‘ کی کشادگی کو یقینی بنانے کے ساتھ آزادانہ تجارت کو فروغ دینے کی بات کر رہا ہے۔
’اسلام آباد مذاکرات ‘ کے آغاز نے عالمی نقشہ پر ہندستان کے پڑوسی ملک پاکستان کی اہمیت کو نہ صرف اجاگر کیا ہے بلکہ پاکستان ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں بھی اپنی اہمیت کو منوانے لگا ہے ۔ یقینا پاکستان کی معیشت اور کمزور پالیسیوں کے علاوہ سیاسی نظام کے نتیجہ میں پاکستان کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی تھی لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے کردار نے پاکستان کو دنیا میں اپنی ایک علحدہ شناخت بنانے کا موقع فراہم کیا ہے جس کا پاکستان بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے یہ اور بات ہے کہ یہ فائدہ پاکستانی عوام کو منتقل ہوگا یا مملکت کی بہتری کے لئے کا م آئے گا لیکن شہباز شریف اور عاصم منیر نے اتفاقی طور پر ہی سہی لیکن اپنی اہمیت میں اضافہ کرلیا ہے جس کے نتیجہ میںان کے قدمیں اضافہ ہونے لگا ہے۔ شہبازشریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران کے لئے مدینہ منورہ میں روضۂ اقدسﷺ کے دروازے کوکھولاجانا ان کی اہمیت کو واضح کرتا ہے‘ اسی طرح عاصم منیر کے تہران پہنچنے پر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا استقبال کے لئے طیرانگاہ پہنچنا ان کی اہمیت جتا نے کے لئے کافی ہے ۔ اسلام آباد میں شروع ہوئے امن مذاکرات اور 21گھنٹے کی بات چیت کے اختتام اور کسی نتیجہ کے بغیر نائب صدر امریکہ کے ساتھ امریکی وفد کی امریکہ واپسی اور بعدازاں ایرانی وفد کی ایران واپسی پر دنیا کے بیشتر ممالک کے تمام غیر جانبدار ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے بات چیت کو غیرمختتم اور جاری رہنے والی قرار دیا گیا لیکن ہندستانی ذرائع ابلاغ نے اس غیر مختتم بات چیت کو ’اسلام آبادمذاکرات ‘ کے ناکام ہونے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ثالثی کا ناکام ہونا قرار دینے کی کوشش کی لیکن جب دونوں فریقین کی جانب سے بات چیت کو غیر مختتم اور جنگ بندی کے جاری رہنے کا اعلان کیاگیا تو اس وقت ہندستانی ذرائع ابلاغ نے ان خبروں سے ہی اپنا دامن جھاڑنا شروع کردیالیکن دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں ذرائع ابلاغ ادارو ںبالخصوص ’’گودی میڈیا‘‘ کی یہ حرکت مخالف جنگ بندی اور امن کے بجائے جنگ کی خواہش رکھنے والے نظریات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے لگ گئی جس کے نتیجہ میں ہندستان کی شبیہہ بری طرح سے متاثر ہوئی اور حکومت نے بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی مثبت اقدام نہیں کئے بلکہ ایران۔امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے دور میں متحدہ عرب امارات کا وزیر خارجہ ہند ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے دورہ کرتے ہوئے دنیا کو جو پیام دیا ہے وہ بھی ہندستان کی خارجہ پالیسی کو سوالات کے کٹگہرے میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات ایران ۔اسرائیل و امریکہ کی جنگ بندی کا قائل نہیں ہے۔
جہاد کے اسلامی تصور اور مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیام امن کے لئے جدوجہد کرنا ہی دراصل ’جہاد‘ ہے اور تاریخ اسلام میں غزوات و معرکوں کا اگر جائزہ لیں تو یہ بات دلائل کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ جب کبھی جہاں کہیں شورش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور نقص امن کا خطرہ پیدا ہوا تو ایسی صورت میں ہی جنگ و جدال کی نوبت آئی اور اقامت دین کے لئے کی جانے والی جدوجہد کے ذریعہ قیام امن کو یقینی بنایا گیا ۔ درس وتدریس کے ذریعہ دینی شعور بیدار کیا جاسکتا ہے لیکن قیام امن کے لئے جدوجہد ناگزیر ہوتی ہے اسی لئے امت مسلمہ کو دنیا میں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کی نہ صرف سراہنا کی جانی چاہئے بلکہ ہر اس جدوجہدکے پس پردہ محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تائید یا مخالفت میں فیصلہ کرنا چاہئے ۔ ایران۔امریکہ و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے دوران جن لوگوں نے ایران کی مخالفت کی تھی وہ دراصل اپنے ان عرب آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو ایران کے خلاف تھے لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ظاہر کر رہی ہے کہ جن کی خوشنودی کے لئے سرکردہ مذہبی افراد کوشاں تھے وہ خود اب ایران کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرچکے ہیں ایسے میں حق گوئی سے اعراض کرنے والی مذہبی شخصیات کی حالت کھسیانی بلی کی طرح ہوچکی ہے اور وہ اب ایران کی موقف کی حمایت کرنے والے علماء و اکابرین کو نشانہ بناتے ہوئے کی تذلیل کے مرتکب بن رہے ہیں حالانکہ جن مذہبی شخصیات نے ایران ۔اسرائیل و امریکہ کے درمیان جنگ کو معرکہ حق و باطل قرار دیا تھا وہ اسلام کے اس آفاقی پیغام کو نظر میں رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے جس میں ’دین اسلام‘ نے امت کو روئے زمین پر قیام امن کے لئے جدوجہد کی تعلیم دی ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا