مرد مؤمن کی موت

   

ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو خوارج کے بُرے ارادوں کے پیش نظر اس بات کا خوف دِلایا کہ ’’کہیں کوئی آپ کو بے خبری کے عالم میں دھوکہ سے شہید نہ کردے، لہذا آپ کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہئے‘‘۔ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے جواب میں جو کچھ فرمایا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرد مؤمن کا خدا پر کتنا مضبوط ایمان ہوتا ہے۔ بندۂ مؤمن موت سے ڈرتا اور کانپتا نہیں، بلکہ ہر وقت تیار رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ’’جب تک میری موت کا مقررہ وقت نہیں آجاتا، کوئی میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ موت میری نگہبان ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مضبوط ڈھال ہے، لیکن جب میری موت کا وقت آجائے گا، یہ خدائی ڈھال مجھ سے الگ ہوجائے گی اور مجھے موت کے سپرد کردے گی۔ اُس وقت نہ تو موت کا تیر خطا جائے گا اور نہ اُس کا لگایا ہوا زخم بھرے گا‘‘۔ایک موقع پر حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے فرمایا ’’مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ موت مجھ پر آگرے یا میں موت پر گرجاؤں‘‘۔ اسی حقیقت کو ایک خطبہ کے دوران یوں اُجاگر فرمایا کہ ’’موت ایک ایسا طالب ہے، جس سے بچاؤ کی صورت نہیں۔ نہ کوئی ٹھہرنے والا اس سے بچ سکتا ہے اور نہ بھاگنے والا اسے تھکا سکتا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا ’’سب سے زیادہ باعزت موت، شہادت کی موت ہے۔ اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تلوار کی ہزار ضربیں میرے لئے بستر پر مرنے سے زیادہ ہلکی اور آسان ہیں‘‘۔واضح رہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی مرتضیٰ ؓپر چھپ کر قاتلانہ حملہ کیا اور زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے ضرب لگائی۔ جس وقت آپ زخمی ہوکر گرے تو آپ کی زبان مبارک سے بے ساختہ نکلا ’’اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم! میں نے کامیابی حاصل کرلی‘‘۔(تاریخ اسلام سے اقتباس)