امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ اور پھر مشرق وسطی کی کشیدگی ساری دنیا کو متاثر کر رہی ہے ۔ حالانکہ جنگ بندی نافذ ہے تاہم یہ مستقل نہیں ہے اور مستقل جنگ بندی کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجودا مریکہ کی جانب سے لگاتار ہٹ دھرمی اور من مانی اقدامات کے نتیجہ میں بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے اور فریقین کی جانب سے اپنے اپنے موقف کا دفاع کیا جا رہا ہے ۔ ایران کا جہاں تک سوال ہے تو اس نے ایک سے زائد مرتبہ اپنی جانب سے تجاویز پیش کی ہیں۔ اس نے بارہا یہ واضح کردیا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے ۔ وہ امن قائم کرنا چاہتا ہے تاہم اس کیلئے وہ اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ امریکہ کے دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے گا ۔ ایران کا موقف واجبی نظر آتا ہے اور اس نے اپنے موقف میں لچک بھی دکھائی ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مفادات کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اور اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے جس کیلئے ایران تیار نہیں ہے ۔ امریکہ اور خاص طور پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے ۔ دنیا کا نظام اتھل پتھل ہونے لگا ہے اور کئی ممالک معاشی مشکلات کاشکار ہوگئے ہیں۔ امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مشکلات اور مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور فی الحال اس مسئلہ کا کوئی فوری حل برآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ بات چیت کیلئے فریقین کو لچکدار موقف کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور امریکہ اپنے موقف میںلچک پیدا کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ جو اثرات ساری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اس کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔ مشرق وسطی کی کشیدگی کے جو اثرات ہیں ان کے نتیجہ میں کئی ممالک کی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں اور اگر مستقل جنگ بندی نہیںہوتی ہے اور کشیدگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو کئی چھوٹے اور غریب ممالک کا دیوالیہ ہوسکتا ہے ۔ افریقی ممالک خاص طور پر بھوک مری اور غربت کا شکار ہیں اور ان کے حالات بھی لگاتار بگڑتے چلے جا رہے ہیں ۔
آبنائے ہرمز کو ایران کی جانب سے بند کیا گیا ہے اور وہ بحری جہازوں کو وہاں سے گذرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے ۔ اس نے ٹول ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے اور ایک سوالنامہ بھی تیار کردیا ہے جس کے جواب دینا بحری جہازوں کیلئے ضروری کردیا گیا ہے ۔ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوںکا محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہ ایرانی جہازوں کو اس محاصرہ کو توڑ کر باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے ۔ صورتحال تعطل کا شکار ہی بنی ہوئی ہے ۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی منتقلی متاثر ہو رہی ہے ۔ سپلائی بہت کم ہوگئی ہے ۔ کم سپلائی کے نتیجہ میں قیمتوں کا مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے ۔ دیگر ساز و سامان کی منتقلی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک کی اسٹاک مارکٹیںمتاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ عام آدمی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کئی صنعتی شعبہ جات اس کے نتیجہ میں متاثر ہو رہے ہیں ۔ ان کی پیداوار پر اثر ہونے لگا ہے ۔ کئی شعبوں میں ملازمتوں کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اگر یہ جنگ دوبارہ شروع ہوجاتی ہے اور کشیدگی طوالت اختیار کرجاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ ممالک بھی متاثر ہونے لگیں گے جو ابھی تک محفوظ سمجھے جا رہے ہیں یا جن پر اس جنگ کے اثرات نہیں ہوئے ہیں۔ جو ممالک پہلے سے متاثر ہوئے ہیں ان کی مشکلات میںمزید اضافہ ہوجائے گا اور چند ایک شعبہ جات نہیں بلکہ سارا معاشی نظام درہم برہم ہونے کے اندیشے لاحق ہوجائیں گے ۔ اس پر ساری دنیا کو غور کرنے اور حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح کی بیان بازیاں کر رہے ہیں وہ بھی حالات کو سدھارنے کی بجائے بگاڑنے کی وجہ بن رہے ہیں۔ کسی ایک موقف کو مستحکم انداز میں اختیار کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں نہیں ہو رہی ہیں۔ دنیا کے اثر رکھنے والے بڑے ممالک کو اس معاملے میں حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ پر اثر انداز ہونا چاہئے کہ وہ واقعتا جنگ بندی کو مستقل بنانے کیلئے تیار ہوجائے ۔ ایران کے جائز اور واجبی حقوق کی ضمانت دی جائے اور دنیا بھر میں جو معاشی انحطاط اور مشکل صورتحال کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ان کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔