نیٹ ۔ یوجی پرچہ کا افشاء

   

میں وہی ہوں، نظر جو آتا ہوں
زندگی ہے کھلی کتاب اپنی
لاکھوں طلباء و طالبات کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے بالآخر نیٹ ۔یوجی 2026 کے امتحانات کو منسوخ کردیا گیا ہے کیونکہ اس کے پرچہ سوالات کا افشاء ہوگیا تھا ۔ ویسے تو ملک میں ہر حکومت ہر امتحان کو انتہائی منظم اور محفوظ انداز میں منعقد کرنے کے دعوے کرتی ہے تاہم اکثر و بیشتر دیکھا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی امتحان کا پرچہ لیک ہوجاتا ہے اور پھر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلباء و طالبات کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ لاکھوں طلباء و طالبات دن رات ایک کرتے ہوئے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں اور چند مٹھی بھر مفادات حاصلہ اور لالچی افراد کی جانب سے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا جاتاہے ۔ جب کبھی کسی پرچہ سوالات کا افشاء ہوتا ہے تو کچھ ہلچل مچتی ہے تو حکومتوں کی جانب سے کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ایک دو افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور پھر معاملہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے ۔ یہ پتہ نہیں چلتا کہ امتحانی پرچوں کے افشاء کیلئے ذمہ دار افراد کو سزائیں دلائی بھی گئی ہیں یا پھر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے ۔ آج تک امتحانی پرچوں کے افشاء میں ملوث مکمل ریاکٹ کا پتہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی تمام ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہونچایا گیا ۔ دکھاوے کے کچھ اقدامات کردئے جاتے ہیں تاکہ عوامی کا غم و غصہ کم ہوجائے اور پھر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔ اسی لاپرواہی نظام کی وجہ سے وقفہ وقفہ سے پرچہ جات کا افشاء ہوتا رہتا ہے اور لاکھوں طلباء و طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ملک کی شمالی ریاستوں میں پرچہ جات کا افشاء بہت عام بات ہے ۔ وہاں تو سرکاری نوکریوں پر بھرتی کے پرچے بھی لیک ہوجاتے ہیں اور امتحانات ہی کو منسوخ کرنا پڑتا ہے اور پھر بھرتیوں کا عمل تعطل کا شکار ہوجاتا ہے ۔ ایک ایک امتحان کے نتیجہ کیلئے طلباء و طالبات کو تین تین چار چار برس تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ یہ سارے معاملے ہمارے امتحانی نظام کی خامیوں اور عملہ کی کوتاہیوں کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کے ازالہ کیلئے حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی موثر اور جامع اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانی پرچوں کے افشاء کے واقعات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے یں۔
اب تازہ معاملہ میں نیٹ ۔ یو جی کا پرچہ لیک ہوگیا ۔ اس بار ایسا لگتا ہے کہ قانون اور ایجنسیوں کو دھوکہ دینے کیلئے ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا تھا ۔ اس بار راست پرچہ کا افشاء کرنے کی بجائے ایک کوئسچن بینک تیار کیا گیا ۔ اس میں 300 سے زائد سوالات شامل کئے گئے ۔ ان میں وہ 150 سوالات بھی شامل تھے جو اصل امتحانی پرچے میں شامل تھے ۔ ہر سوال کے چار نمبرات مختص تھے ۔ اس طرح جن طلباء و طالبات کو یہ پرچہ قبل از وقت فراہم کردیا گیا تھا ان کے پاس 600 نشانات کے سوالات پہلے ہی سے دستیاب تھے ۔ یہ ایک منظم ریاکٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ کہیں کوئسچن بینک تیار کیا گیا ۔ اسے کسی اور ریاست میں ایک زیراکس سنٹر کو بھیجا گیا ۔ وہاں سے واٹس ایپ یا دوسرے ذرائع سے مخصوص طلباء و طالبات کو یہ سوالات فراہم کروادئے گئے ۔ اس طرح یہ معاملہ صرف ایک ریاست یا ایک شہر تک محدود نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ کئی ریاستوں میں پھیلا گیا تھا اور یہ انتہائی سنگین نیٹ ورک ہوسکتا ہے ۔ سارے معاملے کی اگر غیر جانبداری سے اور پیشہ ورانہ انداز میں جانچ کی جائے تو ایک بہت بڑے ریاکٹ کا پردہ فاش ہوسکتا ہے اور یہ پتہ چل سکتا ہے کہ اب تک اس طرح کے کتنے واقعات پیش آئے ہیں۔ کتنی دھاندلیاں ہوئی ہیں اور کتنے اہمیت کے حامل امتحانات میں دھوکہ دہی کرتے ہوئے حق دار اور محنت سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی حق تلفی کی گئی ہے اور کتنی دولت کی منتقلی ہوئی ہے اور پیسے نے کتنے ہاتھ بدلے ہیں۔
نیٹ ۔ یو جی پرچہ کے افشاء کے بعد اس امتحان کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ اس طرح جن لاکھوں طلباء و طالبات نے رات دن محنت کرتے ہوئے کئی مہینوں تک امتحانات کی تیاری کی تھی ان کی حق تلفی ہوئی ہے ۔ ان کی محنت پر پانی پھیر دیا گیا ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آئندہ پرچہ جات کا افشاء نہیں ہوگا ۔ حکومت کو اس معاملے کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ طلباء اور خود قوم کے مستقبل کا سوال ہے ۔ پرچہ جات کا افشاء کرنے والے مکمل نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جانا چاہئے ۔ اس میں ایک دو نہیں بلکہ درجنوں افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔ ان سب کو کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے تاکہ مستقبل میں طلباء و طالبات کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ ہونے نہ پائے ۔