ٹیلی گرام پر مسروقہ ڈیٹا کی خرید و فروخت جاری

   

نیویارک : اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کی چوری شدہ معلومات جیسے کہ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات، پاس ورڈز اور انٹرنیٹ پر لوگوں کی سرگرمیوں کا ڈیٹا ٹیلی گرام پر کھلے عام فروخت کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق ایپ پر موجود چینلز کی بہت زیادہ نگرانی نہیں کی جاتی جس کے سبب یہ سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ سائبر جرائم کے لیے استعمال ہونے والے ٹولز، جیسے جعلی تصاویر یا ویڈیو تخلیق کرنے والا ڈیپ فیک سافٹ ویئر اور ڈیٹا چوری کرنے والا مالویئر بھی وسیع پیمانے پر فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ ایپ پر سرگرم غیر لائسنس یافتہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے ذریعہ غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی بھی جاری ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی ڈیٹا کی خرید و فروخت کے مراکز کے ٹیلی گرام پر منتقل ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان مراکز میں موجود فروخت کنندگان جنوب مشرقی ایشیا میں سرگرم بین الاقوامی جرائم کے گروہوں کو اپنے کاروبار کا ہدف بنارہے ہیں۔