پاکستان میں مابعد مانسون بیماریاں ہی بیماریاں

   

اسلام آباد : لاہور کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کے بعد موسمی بیماریوں کے شکار افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر کی ایڈوائس جاری کی ہے۔ لاہور کے سینئر معالج ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مون سون کے بعد آج کل کے موسم میں ڈینگی، ملیریا، ٹائفائید، ہیپا ٹائیٹس ، ہیضہ اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا موسم بیماری کا باعث بننے والے جراثیموں کی افزائش کے لیے بہت موزوں ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اس سال بھی ڈینگی کی وبا ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے اور ملک کے بیشتر حصوں میں ڈینگی کے مریض بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں مختلف بیماریوں کے مریضوں کی تعداد ریکارڈ کرنے کا کوئی مستند انتظام موجود نہیں ہے لیکن پاکستانی کے سرکاری حکام اس برس ڈینگی کے مریضوں کی تعداد چند ہزار بتا رہے ہیں لیکن طبی اور صحافتی حلقے حکومتی اعدادوشمارکو درست قرار نہیں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان اعداوشمار میں نجی ہسپتالوں اور دیہات میں رہنے والے مریضوں کی تعداد شامل نہیں ہوتی۔ طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار کی علامات میں بخار، سردرد، جوڑوں اور پٹھوں کا درد اور عموماً جلد پر سرخی مائل ریشز کا نمودار ہونا بھی شامل ہے۔ ان کے بقول عموماً اس بخار میں مبتلا مریض اگر مناسب احتیاطی تدابیر پر عمل کرے تو خود بخود صحت یابی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے میں اس بیماری میں پانی یا مائع اشیاء کا زیادہ استعمال اہم قرار دیا گیا ہے۔