پروڈکشن میں کٹوتی میں سعودی عربیہ کی توسیع کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

,

   

روس نے خام برآمدات کو 300,000بی پی ڈی تک روکنے کے اپنے رضاکارانہ فیصلے کو ڈسمبر2023تک بڑھا دیاہے۔
نئی دہلی۔ائیل پرائز کی رپورٹ ہے کہ سعودی عربیہ کی جانب سے اس سال کے آخر تک اپنی پیدوار میں کٹوتی پر توسیع کرنے کرنے کے اعلان کے بعد منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اچھال آیاہے‘ وہیں روس نے خام برآمدات کو 300,000بی پی ڈی تک روکنے کے اپنے رضاکارانہ فیصلے کو ڈسمبر2023تک بڑھا دیاہے۔

روس نے خام برآمدات کو 300,000بی پی ڈی تک روکنے کے اپنے رضاکارانہ فیصلے کو ڈسمبر2023تک بڑھا تے ہوئے سعودی عربیہ کی نقل کی ہے‘ اور اس کے لئے تیل کے منڈیو ں میں استحکام او رتوازن کی برقراری کا دعوی کیاہے۔

سعودی عربیہ اور روس کی جانب سے سربراہی میں 2023ڈسمبر تک کٹوتی میں توسیع کے بعد ائی سی ای برینٹ قیمتوں میں فی بیرل 90ڈالر کا اچھال آیاہے۔

سعودی عربیہ کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عربیہ اس سال کے آخر تک اپنے رضاکارانہ 1ملین بی پی ڈی خام تیل کی پیدوار میں کمی بڑھا دے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سے ماباقی سال کے لئے سعودی عربیہ کے خام تیل کی پیدوار کے لئے 9ملین بی پی ڈی کا نشانہ ہے۔

تاہم توسیع کا ہر ماہ جائزہ لیاجاتا ہے۔ تیل کی منڈیاں اندازہ لگارہے ہیں کہ او پی ای سی اپنی پیدوار کی حکمت عملی کے ساتھ کیسے آگے بڑھے گا‘ روس او رسعودی عربیہ کا رول برائے او پی ای سی کا منصوبہ تشویش کی اونچائی پر ہے۔

مارکٹ کے تجزیہ کار معمول کے مطابق تیل کی قیمت کے پوائنٹس کا انتخاب کرتے ہیں جوسعودی عربیہ کی طرف سے اضافی کاروائی کو متحر ک کریں گی۔

گذشتہ ماہ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 6ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہیرپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس دوران‘ روسی سمندری تیل او رمصنوعات کی برآمدات ستمبر 2022کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی ہیں کیونکہ موسم گرما میں مضبوط گھریلو طلب بیرونی منڈیوں کئے دستیاب حجم کو محدود رکھتی ہے۔

جولائی او راگست کے برآمدات میں 500,000بی پی ڈی کی کمی کے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے‘ ہندوستان کوروسی بہاؤ 30فیصد کم ہوکر 1.5ملین بی پی ڈی ہوگیا‘ بالکل اسی طرجیسے یورال جولائی کے اوائل سے تیل کی قیمت کی حد60ڈالر فی بیرل سے اوپر تجارت کررہی تھی