پچھلے پانچ سال میں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا۔ اگر ہجومی تشدد کا خوف بڑھاہے تو کیا اس سے سکیورٹی کے احساس میں اضافہ نہیں ہوگا؟عارف محمد خان

,

   

سابق یونین منسٹر عارف محمد خان جنھوں نے وضاحت کی کہ وہ تین طلاق پر سیول کریمنل بحث کے لئے راضی نہیں ہے‘ انہوں نے کہاکہ حالات کوتاریخ کے برعکس دیکھا گیاہے‘ اور امید ہے اس سے مسلمانوں تعلیم کو اہمیت دیں گے‘ اور استفسار کیاکہ کانگریس کے تشکیل شدہ پینلوں سے کیاحاصل ہوا ہے

نئی دہلی۔ ایک سابق مرکزی وزیر جس کے پاس سیول ایویشن اور انرجی جیسی وزرات تھیں‘ عارف محمد خان 1986میں راجیوگاندھی کی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے کے طور پر مشہور ہیں‘ اور انہوں نے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ میں قانون لانے کا فیصلہ کیاتھا

۔اسلام میں اصلاحات کے بڑے حامی خان نے کئی سالوں سے فوری طور پر دی جانے والی تین طلاق کے خلاف ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو 2019میں مسلم خواتین(کی شادی کے حق کا تحفظ) بل کے تحت ممنوعہ قراردیاگیاہے‘ جو پچھلے ہفتہ پارلیمنٹ میں منظور کیاگیا۔

کانگریس چھوڑنے کے بعد خان نے جنتادل اور بی ایس پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سال2004میں وہ بی جے پی میں شامل ہوئے مگر تین سال بعد چھوڑ دیا‘ اور کہاکہ پارٹی نے انہیں نظر انداز کیا۔

منوج سی جی۔ راجیہ سبھا میں تین طلاق پر بحث کے دوران‘ مرکز وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہاکہ جب ملک اگر بڑے رہا ہے‘ مگر کانگریس اب بھی 1986کے دور میں کھڑی ہے۔آپ کا اپنا کیا موقف ہے؟۔

سپریم کورٹ کے (تین طلاق پر) کے فیصلے کے بعد‘ زیادہ تر لوگوں کایہ تاثر ہے کہ یہ عمل شیطانی ہے۔ تاہم تین طلاق کے واقعات بدستور جاری ہیں۔

ستمبر 5سال2017پر ایک یادیڑھ ماہ بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کے‘ میرے قدیم حلقہ بھائی راچ سے میرے ایک دوست نے فون کیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ ان کی بیٹی کو طلاق دیدیاگیا۔

جنوبی ہندوستان کی ایک ریاست میں اس کاشوہر کام کرتا ہے۔اسکی بیٹی نے مجھ سے کہاکہ”چچا مجھے حقیقت میں معلوم نہیں کہ ہوا کیاہے۔ دونوں کے درمیان میں معمولی بحث ہوئی اور وہ بے قابو ہوگئے“۔

مقامی رکن اسمبلی او ربھائی راچ کے سپریڈنٹ آف پولیس سے میں نے فوری بات کی۔ ان لوگوں نے لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تین طلاق غیرقانونی ہے مگر وہ لڑکے بھائی راچ سے کہیں غائب ہوگیا“۔

میں نے6اکٹوبر 2017کو ایک مکتوب وزیراعظم کو روانہ کیا۔ اگلے روزمیں نے ایک گھنٹہ طویل ملاقات بھی کی۔ میں نے ان سے شکایت کی کہ 1986میں ہم نے شاہ بانو کیس میں فیصلے کے خلاف جاکر قانون بنانے کی غلطی کی تھی اور پھر اب ہم سپریم کورٹ کے احترام اور اس کے نقش قدم پر چلانے کے فیصلے کو یقینی بنانے کی غلطی دوبارہ دہرارہے ہیں۔

وزیراعظم نے مجھ سے کہاکہ قانون نافذ کیاجائے گا۔اگلے روز میں نے تین گھنٹوں تک وزرات قانون کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی اور جو بھی جانکاریاں میرے پاس تھیں انہیں فراہم کیا۔ اٹھ دن بعد مذکورہ(تین طلاق) مسودہ کو قطعیت دی گئی۔

بل لوک سبھا میں پیش کیاگیا او رمنظور بھی کرلیاگیا۔بعدازاں وہ لڑکی مجھے دوبارہ کال کرتے ہیں اور کہتی ہے”میرے شوہر نے آندھر ا پردیش سے مجھے فون کیا۔

وہ واپس ائے گا اورمجھے کچھ دنوں بعد ساتھ لے کرجائے گا“۔ بل کی لوک سبھا میں منظوری کے بعد وہ لڑکا خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگاتھا

منوج سی جی۔ ایک ایسے وقت میں یہ قانون لایاگیا ہے جب ملک کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں لوگوں کو جبری طور پر جئے شری رام کہنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔؟

سال1986میں ہجومی تشدد کا وجود نہیں تھا‘ بی جے پی کا وجود نہیں تھا‘ پھر بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی زیرقیادت شروع کی گئی تحریک پرتشدد اور جارحانہ زبان کے استعمال کا سبب بنی۔

پھر ایسا کہاگیا یہ ہماری قوم کی شناخت ہے۔ ہمارا مذہب خطرے میں ہے‘ عدالتیں ہمارے مذہبی امور میں مداخلت کی کوشش کررہی ہیں۔

جب مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ انڈیا گیٹ کے میدان میں ہوئی‘ عوام سے اپیل کی گئی اراکین پارلیمنٹ کی ٹانگیں توڑ دیں‘ بالخصوص مسلم اراکینکی جو اپنے موقف سے منحرف ہونے کی ہمت کریں۔

اس وقت بی جے پی کے صرف دو اراکین پارلیمنٹ تھے۔سال1946میں مسلم لیگ کا کیا موقف تھا؟ اگر یہ اس ملک کی تقسیم نہیں ہوئی تو پھر ہمارا مذہب‘ تہذیب‘ لسانیت خطرہ میں رہے گی۔

اگر ایسا کچھ لوگوں کے دلوں میں خوف اور عدم تحفظ ہے توآپ ان کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں۔ میں سخت احساس ہے ہجومی تشدد کے متعلق کیونکہ میں اس سے بچ کر آیا ہوا ہوں۔

میرے 1986میں استعفیٰ کے بعد میرے گھر پر تین حملے ہوئے۔ پھر1990میں تقریبا مجھے گھیر لیاتھا