پیرانِ پیرؒ کے قول و فعل میں تضاد نہ تھا

   

ڈاکٹر سید حسام الدین

گزشتہ سے پیوستہ … حضرت پیرانِ پیرؒ ۵۱۱؁ ھ میں چالس سال کی عمر میں وعظ و مواعظ کے ذریعہ اپنے مشن تجدید دین کا آغاز کیا ۔ اس لئے آپؒ کو محی الدین کہا جاتا ہے ۔ جس وقت حضرت غوث اعظم دستگیرؒ نے اپنے مشن کا آغاز کیا وہ ایک عجیب کشمکش کا دور تھا ۔ تین قسم کے مکتب خیال اس وقت رائج تھے جن کے دماغوں پر فلسفہ یونان کی عظمت چھائی ہوئی تھی جن کو ’’فرقہ معتزلہ‘‘ سے جانا جاتا تھا ۔ دوسرا فرقہ ظاہر پرست ملا تھے۔ تیسری قسم کے وہ لوگ تھے جو اسلامی تعلیمات میں باطنیت پر زور دیتے تھے ۔ سیاسی طورپر بھی حالات سازگار نہیں تھے ۔ بغداد میں عباسی خلیفہ مذہبی و روحانی اعتبار سے باوقار ہونے کے باوجود ملک کی سیاست اُن کی گرفت سے باہر تھی ۔ اس پس منظر میں حضرت غوث اعظم دستگیرؒ نے اصلاح معاشرہ امر بالمعروف ، شریعت کی پابندی اور اخلاقی تربیت پر زور دیا ۔ اسلامی علوم میں اشاعت میں خطبات غوث الاعظم کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔ آپؒ کے مواعظ اور خطبات میں سچائی کا وصف اور صداقت کانور ہے ۔
آپؒ نے اپنے خطبات کا سلسلہ ۵۴۵۔۴۶؁ ھ کے دوران شروع کیا ۔ آپؒ کے خطبات کی تعداد ۶۰ سے زائد ہے ۔ آپؒ کے خطبات میں امیر ، غریب ، علماء ، امراء اور حاکم وقت شریک ہوتے تھے ۔ آپؒ راست گو تھے ۔ حسن و صداقت کے اظہار میں کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اپنے مواعظ میں حاکم وقت کی بھی سرزنش کرتے آپؒ کی کوئی بھی مجلس توبہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوتی تھی ۔ آپؒ کے خطبات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی تھی ۔ آپؒ کے خطبات کا سامعین پر عجیب اثر ہوتا ۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور ان میں سے کئی بیہوش ہوجاتے ۔ آپؒ کے خطبات اور مجالس وعظ میں اس لئے تاثیر ہوتی تھی کیونکہ آپؒ کے قول و فعل میں تضاد نہ تھا ۔
آپؒ کی تصانیف میں غنیۃ الطالبین ، فتوح الغیب ، فتح ربانی ، جلادالخاطر مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ آپؒ کے مکتوبات اور ملفوظات کی بھاری تعداد بھی ہے ۔ آپؒ نے باطل عقائد کی بیخ کنی کرکے دین مبین میں نئی جان ڈالکر اسے مستحکم کیا اس لئے آپ کو محی الدین کہا جاتا ہے ۔ احیاء دین ہی آپؒ کی زندگی کا اصل کارنامہ ہے ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم احیاء دین کی جدوجہد شروع کریں جس کیلئے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کوشاں رہے ۔ سلسلہ قادریہ سے منسلک بے شمار لوگ سارے اقطاع عالم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حضرت غوثِ پاکؒ ۵۱۱؁ ھ سے ۵۶۱؁ ھ تک مسلسل ۵۰ سال وعظ و نصیحت فرماتے رہے اور ۱۱؍ ربیع الثانی ۵۶۱؁ ھ سہ شنبہ بعمر ۹۱ سال دنیا سے پردہ فرمایا اور اپنے ہی مدرسہ واقع باب الازج بغداد شریف دفن ہوئے ۔ آپؒ کے پسماندگان میں چار ازواج شریفہ تھیں جن سے ۲۰ صاحبزادے اور ۲۹ صاحبزادیاں تھیں ۔ آپؒ کے بڑے صاحبزادے سیدنا سیف الدین عبدالوہابؒ آپؒ کے جانشین ہوئے ۔