کرناٹک۔ بھگواکی بڑی اجارہ داری سے بی جے پی پریشان‘ ایس ڈ ی پی ائی کانگریس کے لئے تشویش کا باعث

,

   

سری رام سینا واحد نہیں ہے جوبی جے پی سے ہندوتوا کے تئیں اس کی سنجیدگی پر برسرعام چیالنج کررہی ہے‘ بلکہ لوگوں کو اس بات کے لئے بھی اکسا رہی ہے کہ وہ بھگوا پارٹی کی یقین دہانی پر یقین نہ کریں۔


بنگلورو۔ برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس جس نے پوشیدہ یاکھلے عام تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا ہے کیچ22کی صورتحال کاسامنا کررہا ہے کیونکہ ان کی کرناٹک میں پولرائزشن کی سیاست عروج پر دیکھائی دے رہی ہے۔

ہندوتواطاقتیں‘ کارکنان جس نے برسراقتدار بی جے پی کے ساتھ ملکر کام کیااور انتخابات میں ریاست بھرکے اندر کاندھے سے کاندھا ملاکر کام کیاہے‘ اب برسراقتدار بی جے پی کے خلاف کرناٹک میں کھڑے دیکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب مذکورہ کانگریس پارٹی کا دعو ہے کہ سوشیل ڈیموکرٹیک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی ائی) اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف ائی) کے بڑھتے قد سے اقلیتوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

حجاب بحران اور مسلمان قائدین کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد مذکورہ بی جے پی کے داخلے ذرائع کی وضاحت ہے کہ ہندو نوجوان آر ایس ایس اور ہندو تنظیموں کے جھانسے میں آگیاہے‘ جو برسراقتدار بی جے پی حکومت کی خاموشی کاسبب بنا ہے۔ تاہم حالات موجودہ حالات میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے‘ جس میں بی جے پی کارکنان او رہندو کارکنان جس کی شناخت بی جے پی کے ساتھ برسوں سے ہے‘ وہ مذکورہ پارٹی سے اپنی ناراضگی ظاہر کررہے ہیں۔

اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا جنرل سکریٹری دھرمیندر نے ائی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کے اختتام کی تاریخ بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہاکہ ”ہم زیادہ سیٹوں پر مقابلہ کریں گے۔

مذکورہ تنظیم بہت زیادہ طاقتور ہے۔ ریاست کی سیاسی صورتحال کو ہم بدل دیں گے۔کرناٹک میں بی جے پی پارٹی کو بہت بڑا دھکا لگے گا“۔مذکورہ برسراقتدار بی جے پی بھی اب وہی رویہ اختیار کئے ہوئے جو کسی وقت میں کانگریس پارٹی کاتھا جب وہ سوائے تین ریاستوں کے سارے ملک پر حکمران تھے۔

کانگریس سے زیادہ بی جے پی ذات پات کی رتقسیم‘ مذہب معاملات پر جارحانہ رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔دھرمیندرنے وضاحت کی کہ مذکورہ پارٹی کارکنان متبادل پارٹیوں اور تنظیموں کی تلاش اور پیش رفت سے مایوس ہیں۔

وہ اکھیل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے حصہ میں آرہے ہیں۔سری رام سینا واحد نہیں ہے جوبی جے پی سے ہندوتوا کے تئیں اس کی سنجیدگی پر برسرعام چیالنج کررہی ہے‘ بلکہ لوگوں کو اس بات کے لئے بھی اکسا رہی ہے کہ وہ بھگوا پارٹی کی یقین دہانی پر یقین نہ کریں۔

نہ صرف ہندوتوا طاقتیں بلکہ بی جے پی کیڈر بھی بجرنگ دل کارکن ہرشا کے قتل معاملے میں ملزمین کے جیل کے اندر خوشیاں مناتے ہوئے وائرل ویڈیوز او رفوٹوز کی وجہہ سے پارٹی سے ناراض ہیں۔

قائدین کی جانب سے اس ناراضگی کو دور کرنے کی کوششیں ہی چل رہی تھیں کہ دکشانا کنڈا ضلع میں بی جے پی یوا مورچہ کارکن پروین کمار نیتا ریا کا قتل پیش آیا اور ہندوتوا کارکنوں او ربی جے پی کارکنوں نے بی جے پی کے پارٹیصدر نالین کمار کتیل اور آر ایس ایس کے اہم لیڈر کلادکا پربھاکر بھٹ جو پروین کے آخری رسومات میں ائے تھے انہیں بھاگنے پر مجبو رکردیا۔

برہم ہجوم نے کتل کی گاڑی کو اوپر نیچے کرنے کی کوشش کی۔ سوشیل میڈیاپر چیف منسٹر او رہوم منسٹر کے بیانات کی مذمت میں مہم شروع ہوگئی۔ سخت کاروائی کی جائے گی‘ ملزمین کوبخشا نہیں جائے گا‘ جیسے بیانات کا مذاق اڑایا گیا۔

اکھل بھارتیہ ویدیارتھی پریشد(اے بی وی پی) کارکنوں نے ہوم منسٹر کرناٹک ارگیا جے نیندرا کے گھر کا گھیراؤ کیاجو برسراقتدار بی جے پی کے لئے شرمندگی کا باعث بناہے۔

سری رام سینا کے بانی پرمود موتھالک نے ائی اے این ایس کو بتایاکہ ان کی تنظیم مجوزہ انتخابات میں بی جے پی کی حمایت نہیں کریگی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ”ہم نے بی جے پی سے تبدیلی کے لئے کہا‘ بی جے پی کے تئیں عدم اطمینان بہت ہے‘ پارٹی بدعنوان ہے اورہندو برداری کی ضروریات کے متعلق حساس نہیں ہے۔ یہ اپنے مقصد سے ہٹ گئی ہے۔ ساتھ ہی سری رام سینا الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں کررہی ہے“۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلم کمیونٹی سے آیا آپ نفرت کرتے ہیں‘ پرمود موتھالک نے کہاکہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے‘ مذکورہ کمیونٹی ہندو ٹیچرس نہیں چاہئے‘ ہندو جلوس نہیں ہونا چاہئے اور پولیس افیسر نہیں ہونا چاہئے کی مانگ میں اضافہ کردیتے ہیں‘ یہ کیادیکھاتا ہے؟ ہم ایسے ہی حالات سے نبر د ازما ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ ماجد خان‘ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن برائے سوشیل ڈیموکرٹیک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی ائی) نے ائی اے این ایس کو بتایاکہ اقلیتوں اور دلتوں کا ایک بڑا حصہ کانگریس پارٹی سے ایس ڈی پی ائی کی طرف رخ کیاہے۔

یہاں تک بی جے پی کارکنان بھی ایس ڈی پی ائی میں شامل ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ”ہم ان کی کمیونٹیوں‘ وارڈس میں شامل ہورہے ہیں۔ ہم آسمان کی نہیں بلکہ زمین کے متعلق بات کررہے ہیں۔ ہم دلتوں کوسمجھائیں گے کتنی بے بسی اور تذلیل کے ماحول میں انہیں رکھا جاتا ہے“۔

خان نے کہاکہ دلت شخص دنیش جس کا قتل کردیاگیاہے کے لئے ایس ڈی پی ائی نے بیلتھانگڈی سے منگلورو تک پیدل دورہ کیاہے۔ اس سے حکومت کو اسے اٹھ لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔

تومکارو ضلع میں د و دلتوں کو مرنے تک اذیت دی گئی‘ یہ ایس ڈی پی ائی ہی تھی جس نے مہم شروع کی اوراونچی ذات والوں کے خلاف مقدمات درج کرائے۔ ماجد خان نے وضاحت کی کہ ”ہم میدان جنگ میں ہیں اور تمام اسمبلی حلقوں پر مقابلہ کاہمارا منصوبہ ہے اور یقینا ہم نہ صرف کانگریس بلکہ بی جے پی کے لئے بھی مشکل پیدا کردیں گے“۔

اس خطرے کو محسوس کرتے وئے نیشنل جنرل سکریٹری اوربی جے پی کے رکن اسمبلی سی ٹی روی نے ایک اپیل کی کہ اگر کوئی پارٹی ہندوؤں کے لئے کام کرتی ہے تو وہ صرف بی جے پی ہے۔ اس طرح کے پارٹی کے خلاف بیانات صرف غیر ہندو طاقتوں کوفائد ہ پہنچائیں گے۔

د وسری جانب اپوزیشن لیڈر سدارامیہ او ردیگر مسلسل ایس ڈی پی ائی پر امتناع کی مانگ کررہے ہیں۔ تاہم دونوں پارٹیوں کے داخلی ذرائع کاکہناہے کہ قیادت ہندو تنظیموں اور ساتھ ہی ساتھ ایس ڈی پی ائی کے بڑھتے قد سے تشویش کا شکارہوگئی ہے۔