نئی دہلی، 3 مئی (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ گریٹ نکوبار جزیرہ ترقیاتی پراجکٹ میں مودی حکومت نے ماحولیات، قبائلیوں کے حقوق، مالیاتی عملیت اور شفافیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے اور وہ ان خدشات کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے ۔کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے گزشتہ 28 اپریل کے دورہ گریٹ نکوبار سے حکومت بوکھلا گئی ہے ، اس لیے اس نے یکم مئی کو پریس ریلیز جاری کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ حکومت ممکنہ ماحولیاتی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے انتہائی حساس اور منفرد علاقہ ہے ۔ وہاں گزشتہ پانچ سال میں پرندوں، سانپوں، گیکو (چھپکلی) اور کیکڑوں سمیت تقریباً 50 نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔ گیلا تھیا خلیج، جہاں بندرگاہ تجویز کی گئی ہے ، کوسٹل ریگولیشن زون-1-اے میں آتی ہے اور یہ لیدر بیک کچھوؤں کی افزائش کی اہم جگہ ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ماحولیاتی منظوری کے عمل میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور زولوجیکل سروے آف انڈیا جیسے اداروں پر دباؤ ڈالا گیا اور بعد میں انہی کو پراجکٹ سے متعلق کام سونپے گئے ، جس سے مفادات کے تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ درختوں کی کٹائی کے اعداد و شمار کے حوالے سے حکومت کے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں اور اب تک اس میں وضاحت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اوقات میں مختلف اعداد و شمار دیے جانے سے صورتحال مشکوک ہو جاتی ہے ۔
کانگریس کی جانب سے جھارکھنڈ میں مختلف کمیٹیوں کی تشکیل
نئی دہلی، 3 مئی (یواین آئی) کانگریس نے جھارکھنڈ میں سیاسی امور، رابطہ کاری، مہم، حلقہ بندی، انتخابی انتظام اور ایس آئی آر کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کی ہے ۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے اتوار کو بتایا کہ پارٹی صدر ملیکارجن کھڑگے نے ان تمام کمیٹیوں کے عہدیداروں کی تقرری کو منظوری دے دی ہے اور انہیں فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے ریاستی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے 16 نائب صدور، 43 جنرل سیکریٹری، 81 سیکریٹریز اور 44 جوائنٹ سیکریٹریز کی بھی تقرری کی ہے ۔سیاسی امور کی کمیٹی میں 36 رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے ، جن میں کے راجو، کیشو مہتو کملیش، عالمگیر عالم، بندھو ترکّی، بنّا گپتا، بھوشن باڑا، دیپیکا پانڈے ، پرساد ساہو، ڈاکٹر اجے کمار، ڈاکٹر رامیشور اوراؤں، فرقان انصاری، ڈاکٹر عرفان انصاری، جلیشور مہتو، کمار جے منگل، کے این ترپاٹھی، کالِیچرن منڈا، ممتا دیوی، نمن بکسَل کونگاری، نشاط عالم، پردیپ بالمچو اور پردیپ یادو شامل ہیں۔