مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو اس کے حواس خمسہ سے بے بہرہ کر دیتی ہے،اور دین و دنیا سے بے خبر کر دیتی ہے،یہاں تک کہ انسان رفتہ رفتہ موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ منشیات یہ کسی ایک ملک یا علاقہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تقریبا ً ہر ملک کا مسئلہ ہے اور اس کے سدباب کے لئے مختلف ممالک میں سخت قانون اور سزائیں موجود ہیں ۔ نشہ کا آغاز عام طور پر تفریح، دباؤیا علاج کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بے سکونی، نشہ کا ماحول اور اس کی آسان دستیابی اس کے استعمال کے راستوں کو ہموار کردیتی ہے ۔ اس کے خطرات سے بے فکر و بے خبر لوگ نشہ کا استعمال پھولوں کی طرح خوشی اور غمی دونوں موقعوں پر کرتے ہیں۔ دور حاضر کا سب سے بڑا عظیم فتنہ منشیات ہے جس نے زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ نشہ کے رسیا اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے نا شکر گزار بندے ہوتے ہیں جو اس کی عطا کردہ قیمتی زندگی کی قدر کرنے کے بجائے اُسے تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ڈرکس فروخت کرنے والے ملک وملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسلوں کو تباہ کر کے ملک و ملت کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔
زندگی اللہ عز وجل کا نایاب تحفہ ہے۔اپنی اور دوسروں کی زندگی کی قدر کرنا اور اس کی حفاظت کرنا انسان کی ذمہ داری ہے،لیکن آج کا انسان اسی زندگی کو ختم کرنے کے دَرپے ہے۔ نئی نسل کسی بھی ملک کی معاشی،تعلیمی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقی میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ جوانی وہ عرصۂ حیات ہے؛ جس میں اِنسان کے قویٰ مضبوط اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں۔ایک باہمت جوان پہاڑوں سے ٹکرانے،طوفانوں کا رخ موڑنے اور آندھیوں سے مقابلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے مگر وہی نوجوان آج اپنی راہ سے بھٹک رہا ہے۔آج کے دور میں کچھ انسان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو آپ روزانہ اپنے گلی،محلے، بازاروں،پارکوں اور مختلف جگہوں پر نشہ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔نوجوان نسل کو جنہیں ملک و ملت کا مستقبل بننا تھا ، جن سے قوم و ملت کا نام روشن ہونا تھا اُن کو شاخوں سے توڑ کر گندگی و تباہی کے ڈھیر پر رکھ دیا اور جسمانی اور ذہنی طور پر اس طرح کھوکھلا کردیا کہ وہ دنیا میں اپنا متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔
معاشرہ میں منشیات اور دیگر فواحش کے فروغ کی بنیادی وجہ مغرب کی اندھی تقلید اورغلامی کا مزاج ہے، اسلام کا مکمل علم نہ ہونے، اپنی دینی تعلیمات پر بصیرت واعتماد نہ ہونے اور روح کے بجائے مادیت کو ترجیح دینے کے مزاج کی وجہ سے اُمت کی اکثریت مغرب کی لبریز کلچر کی اندھا دھند نقالی اور غلامی کررہی ہے۔اسی مغرب پرستی نے ہمارے سماج میں دیگر لعنتوں کے ساتھ منشیات کی لعنت کوبھی پروان چڑھایا ہے۔شراب اوردیگر نشہ آور چیزوں کی بہتات کا ایک سبب ٹی وی پر دکھائے جانے والے مخرب اخلاق پروگرام اور فواحش ، Adsو منکرات پر مبنی فلمیں ہیں۔ شراب نوشی اور کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں میں پائے جاتے ہیں، یہی چیز نوجوانوں میں منشیات کی لت پیداکرنے میں بنیادی کردار اداکرتی ہے۔آج بحیثیت انسان اور مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم معصوم بچوں اور نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچائیں۔
یہ برائی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے اور ہمیں معاشرے کو اس برائی سے بچانا ہے۔ آج یہ کام ہمارے لیے فرض عین کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس کے لیے ہم سب کو متحد ہوکر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا؛ تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرسکیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمباکو نوشی،شراب نوشی،گانجے اور چرس کے خلاف صرف ایک دن نہیں؛بلکہ برس کے بارہ مہینے مہم چلائی جائے اورتمام طبقات بالخصوص میڈیا اور علماء کرام ، مشائخین عظام اور قائدین و عمائدین ، منشیات کے سد باب کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔حضور اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ شراب کے ساتھ ہر وہ چیز اور مشروب بھی حرام ہے، جو نشہ لانے والا ہے۔
اللہ عز وجل نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے،اسی طرح آپ نے فرمایا: ’’ ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے تو وہ حرام ہے‘‘۔ نشہ آور چاہے کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں اس کوحرام قرار دیا گیا۔ ارشاد مبارک ہے:جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔آپ ﷺنے اس فتنۂ منشیات کے متعلق ۱۵۰۰ سال پہلے ہی پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ آپ نے فرمایا: ’’میری اُمت کے لوگ شراب پئیںگے،لیکن اس کو شراب کا نام نہیں، بلکہ کوئی اور نام دیںگے‘‘۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شراب سے بچو! کیوں کہ یہ خباثتوں کی جڑ ہے۔ پہلے زمانے میں ایک عابد انسان تھا، اسے ایک عورت نے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کرنا چاہا اور ایک لونڈی کو اس شخص کے پاس اس بہانے بھیجا کہ میں تجھے گواہی کے لئے بلارہی ہوں، تو وہ شخص اس لونڈی کے ساتھ چلاآیا، جب وہ اندر جاتاہے، تو وہ لونڈی مکان کے ہر دروازے کو بند کردیتی ہے، حتیٰ کہ وہ ایک عورت کے پاس پہنچا، جو نہایت حسین وجمیل تھی اور اس عورت کے پاس ایک لڑکا اور شراب کا ایک برتن تھا۔ اس عورت نے کہا خدا کی قسم! میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے؛ تاکہ تو مجھ سے صحبت کرے یا اس شراب میں سے ایک گلاس پی لے یا اس لڑکے کو قتل کرڈالے،وہ شخص بولا مجھے اس شراب کا ایک گلاس پلادو، اس عورت نے ایک گلاس اسے پلادیا؛جب اسے لطف آیا تو وہ بولا اوردو، پھروہ وہاں سے نہ ہٹا جب تک کہ اس عورت سے صحبت نہ کرلی اور اس لڑکے کا ناحق خون نہ کرلیا،تو تم شراب سے بچو! کیوں کہ اللہ کی قسم شراب اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، حتیٰ کہ ایک دوسرے کو نکال دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے خبیث آدمی کو جہنم میں زانی عورتوں کی شرمگاہ سے جاری ہونے والی نہر سے سیراب کیا جائے گا۔