ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

   

محمد مبشرالدین خرم
ایران ۔امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی بغیر کسی بات چیت و مذاکرات کے اس میں کی جانے والی امریکی توسیع پر ایران کی خاموشی کے ساتھ عمل آوری یہ ثابت کرتی ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے مگر مذاکرات کے ذریعہ جنگ کو مکمل طور پر روک دیئے جانے تک کوئی یہ وثوق کے ساتھ کہنے سے قاصر ہے کہ قیام عالمی امن کے لئے اس جنگ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے ۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے امن مذاکرات میں جہاں گذشتہ ہفتہ تناؤ بنا رہا لیکن اب دونوں ہی ممالک بات چیت کے احیاء کے لئے آمادہ نظر آنے لگے ہیں۔ امریکہ تو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد اپنے طور پر یہ کہتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کا اعلان کرچکا ہے کہ ’پاکستان ‘ کی خواہش پر وہ جنگ کے آغاز کے بجائے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کی توسیع کر رہا ہے۔ ایران۔امریکہ کے درمیان شروع ہوئے ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ میں ایران نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو گھٹنوں پر لا کھڑا کردیا ہے اور خود امریکی ایجنسیوں کے سرکردہ ذمہ داران یہ کہنے لگے ہیں کہ مذاکرات میں شامل ایرانی وفد کے ارکان انتہائی سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ ان کا یہ کہنا کہ ’افغانستان‘ سے امریکی افواج کے انخلاء کے لئے دوحہ میں ہونے والی بات چیت و امن مذاکرات اس قدر سخت نہیں تھے جتنے ’اسلام آباد مذاکرات‘ سخت نظر آرہے ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے لئے ’طالبان‘ سے ہونے والی بات چیت کے دوران اس وقت کے امریکی انتظامیہ نے جو ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہی ہوا کرتا تھا ’طالبان‘ کے جن شرائط کو قبول کیا تھا ان میں وہ امریکی ہتھیار جو افغانستان میں لائے گئے تھے وہ افغانستان کی ملکیت قرار دیئے گئے تھے اور طالبان نے دشمن کے ہتھیار پر قبضہ کا اعلان کرنے کے ساتھ اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا ۔ طالبان نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے لئے ’دوحہ‘ میں جو مذاکرات کئے تھے انہیں سخت اور طالبان کے نمائندوں کو جنگ کے ساتھ مذاکرات کے معاملہ میں بھی انتہائی سخت موقف کے حامل ہیں لیکن اب ایران اپنی مرضی کے مطابق مذاکرات کو یقینی بناتے ہوئے یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ مذاکرات کے معاملہ میں طالبان سے زیادہ سخت ثابت ہورہے ہیں۔
20 سال تک افغانستان میں ’ناٹو‘ ممالک کے افواج کے ساتھ متحدہ جنگ کرنے کے بعد افغانستان سے انخلاء کے لئے جو مذاکرات شروع کئے گئے اور ’دوحہ امن معاہدہ ‘ پر وہ ایک سال سے زائد عرصہ تک جاری رہے اور 2001 سے طالبان کے ساتھ حالت جنگ میں رہنے کے بعد 2021 اگسٹ میں امریکہ نے افغانستان سے طالبان کے شرائط پر انخلاء کیا تھا۔ایران سے مذاکرات کا آغاز ہوئے ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں گذرا ہے لیکن امریکی اہلکار ایرانی وفد کے اراکین کو سخت موقف کے حامل قرار دینے لگے ہیں اور امریکی اہلکار اب انتظامیہ کو مشورہ دینے لگے ہیں کہ وہ طالبان کے ساتھ کئے گئے مذاکرات سے سبق حاصل کریں اور ممکنہ حد تک جلد سے جلد ’اسلام آباد مذاکرات ‘ کو ختم کیا جائے تاکہ ایران ۔اسرائیل و امریکہ کے درمیان جنگ کو مستقل بند کرنے سے اتفاق ہوجائے لیکن امریکی ماہرین و اہلکاروں کی ان تجاویز پر عمل آوری سے زیادہ امریکی انتظامیہ کو اسرائیل کے مفادات اور ٹرمپ خاندان کے تجارتی مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے جبکہ ایران موجودہ صورتحال بالخصوص امریکہ کی حالت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر عائد کی جانے والی تحدیدات کے دوران ہونے والے نقصانات کی پابجائی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔ دنیا کی نظر میں ایران۔امریکہ مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہورہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پس پردہ جو سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں ان میں ایران کو بالادستی حاصل ہے جس کے نتیجہ میں امریکہ جنگ بندی میں بغیر کسی ظاہری مذاکرات یا شرائط کے توسیع کا اعلان کرتا جار ہاہے جو یہ ثابت کر رہا کہ ایران ’’آبنائے ہرموز ‘‘ کو ہی ہتھیار بنائے ہوئے نہیں ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی امریکہ کو ’’طالبان‘‘ نے جس طرح سے کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اس سے زیادہ کمزور ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس میں ایران کووہ کامیابی حاصل ہونے لگی ہے جو کہ مزید ہزاروں میزائل یا ڈرون کے استعمال سے حاصل نہیں ہوسکتی تھی ‘ امریکہ اور مغربی میڈیا کے علاوہ دنیابھر میں موجود وہ عناصر جو امریکہ و ایران کو جنگ میں الجھائے رکھتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کے خواہاں ہیں وہ ایران کے متعلق پروپگنڈہ کے ذریعہ بات چیت کو سبوتاج کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن اس بات کو امریکی انتظامیہ بھی خوب سمجھ رہا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات کا احیاء ہونے سے عین قبل چین نے ایران میں موجود اپنے سفارتخانہ کے تخلیہ کے علاوہ ایرانی میں موجود اپنے شہریوں کو تخلیہ کی اڈوائزری جاری کی ہے جو کہ دنیا میں ایک مرتبہ پھر سے خوف و دہشت کی لہر پیدا کردی تھی ساتھ ہی کئی دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کی اڈوائزری جاری کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ اگر چین جو کہ ایران کا دوست ملک ہے یہ اڈوائزری جاری کر رہا ہے تو ایسی صورت میں انہیں بھی محتاط رہنا چاہئے ۔ ایران کے ذرائع کا کہناہے کہ افغانستان میں 20 سال رہنے کے بعد کئے جانے والے انخلاء کے لئے جب امریکہ کو ایک سال سے زائد مذاکرات کرنے پڑے ہیں تو ایسی صورت میں ایران۔امریکہ کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات مزید طویل ہوسکتے ہیں کیونکہ ایران کے مطالبات میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی برخواستگی کا مطالبہ شامل ہے اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی تاریخ1948 سے شروع ہوتی ہے ۔ ایران اپنی بنیادی شرائط میں خلیجی ممالک کے فوجی اڈوں کی برخواستگی کے ساتھ ایران پر عائد کی گئی تحدیدات کو برخواست کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں موجود 11ٹریلین کے ایرانی اثاثہ جات کو بحال کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی مذاکرات کے لئے وفد کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کرنے کے علاوہ اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں اور اس بات کی توثیق ہونے لگی ہے کہ ایران ۔امریکہ کے درمیان دوسرے مرحلہ کی بات چیت جلد ہونے والی ہے۔’اسلام آباد مذاکرات‘ کے احیاء کو قطعیت دینے کے ساتھ ایران اپنی فوجی طاقت بالخصوص میزائل و ڈرون کی تعداد کے علاوہ میزائل کی صلاحیتوں اور نئے تیار کردہ ہتھیار کو ابھی دنیا کے سامنے نہ لائے جانے کے اعلانات کے ساتھ امریکہ اور اس کے حلیفوں کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے جو کہ جنگ بندی میں توسیع کے لئے بہترین پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اسی طرح جنگ بندی اور ’آبنائے ہرموز‘پر عائد کی جانے والی تحدیدات کے دوران ایران نے سمندر میں مزیدبارودی سرنگوں کو تیار کرتے ہوئے اس کی اطلاع اپنے دشمن تک پہنچا دی ہے جو کہ نہ صرف امریکہ بلکہ خلیجی ممالک میں بھی خوف و ہراس پیدا کئے ہوئے ہے۔ امریکہ جو کہ صہیونی سازشوں کا شکار ہوتے ہوئے ایران سے مقابلہ کے لئے نکل چکا تھا اب بھی اس موقف میں نظر نہیں آرہا ہے کہ ایران جو زبردستی مذاکرات کے لئے آمادہ کرسکے۔
جنگیں ہتھیار‘ طاقت ‘ فوج کی تعداد سے نہیں جیتی جاتی ہیں بلکہ جنگ کے لئے حوصلہ اور جرأت درکار ہوتی ہے ‘ جب فرد‘ قوم ‘یا ملک میں جرأت پیدا ہوجاتی ہے تو وہ کسی بھی طاقت کے آگے کھڑا ہونے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں اور ان کی کامیابی یقینی ہوجاتی ہے کیونکہ کمزور اگر مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اللہ کی مددشامل حال ہونے لگتی ہے اور دنیا کے سوپر پاؤر کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے ہی دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے ایران کو تباہ کرنا اور ایران میں اقتدار کی تبدیلی چند گھنٹوں کی بات ہے لیکن ایران نے اپنے حوصلہ اور جرأت کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکنے کے لئے مجبور نہیں کرسکتی اور مذاکرات کے لئے اپنے اصولوں کے تعین کے ذریعہ ایران نے دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا کہ اگر اسے مجبور کیا جاتا ہے تو وہ ’طالبان‘ سے زیادہ خطرناک ثابت ہونے کے موقف میں ہیں۔ ’طالبان‘ جو کہ ایک غیر منظم دستہ یا فوج تھی اس نے افغانستان میں اپنی سرزمین کا 20 سال تک دفاع کیا خواہ انہیں پہاڑوں میں رہنا پڑے یا روپوش زندگی گذارنی پڑے انہوں نے اپنے جانباز گنوائے لیکن ہمت کا مظاہرہ کیا اور جب اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو امریکہ کو امریکہ سے انخلاء کے لئے اپنے طیاروں اور ہتھیاروں کو بھی افغانستان میں چھوڑ کر واپس ہونا پڑا تھا اور اب ایران نے 56یوم میں جو امریکہ کی حالت کی ہے اس کا اثرمحض ’خلیج فارس ‘ تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے بیشتر تمام ممالک میں اس کے اثرات دیکھے جانے لگے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں ایران کی جرأت کے نتیجہ میں دنیامیں صرف سفارتی یا معاشی تبدیلیاں رونما نہیں ہورہی ہیں بلکہ عالمی نظام میں تبدیلی رونما ہونے لگی ہے ۔ اگر ایران ۔ امریکہ امن مذاکرات طویل مدت تک جاری رہتے ہیں اور امریکہ اپنی بقاء کے لئے اسے جاری رکھتے ہوئے ایران کے شرائط کو تسلیم کرتا ہے تو ایسی صورت میں دنیا کودوبارہ وہ پیغام دیا جاسکتا ہے جس نے تعداد‘ طاقت ‘ کے بجائے حوصلہ کی بنیاد پر حق پسندو ںکو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے صدائے حق کو بلند کیا تھا ۔
اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہوجس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد