مغربی ایشیاء پر حکومت کا کل جماعتی اجلاس

   

خاطر سے یا خیال سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
مغربی ایشاء میں حالات انتہائی ابتر ہیں ۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کردی گئی ہے ۔ جو جنگ امریکہ نے اسرائیل کے اکسانے پر اور اسرائیل کیلئے شروع کی ہے اب اس جنگ کا خاتمہ خود امریکہ کیلئے مشکل نظر آرہا ہے ۔ اس جنگ نے دنیا بھر پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ کئی ممالک میں فیول ایمرجنسی نافذ ہوگئی ہے ۔ گیس اور پٹرولیم اشیاء کی قلت کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے ۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ اس کا راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی حالات ابتر ہو رہے ہیں ۔ حالانکہ حکومت کے دعووں کے مطابق ملک میں پٹرولیم اشیاء کی کوئی قلت نہیں ہے تاہم گیس کی سپلائی ضرور متاثر ہوگئی ہے اور اس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوام گیس سلینڈر حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مختلف ذرائع سے پٹرولیم اشیاء اور گیس حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم صورتحال معمول کے مطابق نہیں رہ گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ مغربی ایشیاء کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں مباحث کئے جائیں۔ حکومت سے اپوزیشن جماعتیں کئی سوال پوچھ رہی ہیں تاہم ان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نے حالانکہ بیان دیا ہے اور کہا کہ ملک کے سامنے اس جنگ نے کئی چیلنجس کھڑے کردئے ہیں۔ عوام کو متحد رہ کر صورتحال کا سامنا کرنا چاہئے ۔ حکومت نے اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے اور اپنے موقف کو واضح کرنے کیلئے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا ۔ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت اس اجلاس میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اور جو سوال پیدا ہونے لگے ہیں ان کا جواب دیا جائے گا ۔ تاہم اس اجلاس میں حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی اس جنگ کی مذمت کی گئی ہے جو بلا وجہ ایران پر مسلط کی گئی ہے اور اس کا خمیازہ دنیا کے کئی ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ اس جنگ کو روکنے کیلئے کیا کچھ کر رہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی باضابطہ مصالحت شروع نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس طرح کی کوئی کوششیں شروع ہوئی ہیں تاہم حکومت کو یہ واضح موقف اختیار کرنا چاہئے کہ اس جنگ کو جتنا جلد ممکن ہوسکے روکا جائے کیونکہ اس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ حالات صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہ گئے ہیں بلکہ کئی ممالک اس کی زد میں ااگئے ہیں۔ اگر یہ جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے اور شدت اختیار کرجاتی ہے تو اس کے انتہائی سنگین اثرات ہوسکتے ہیں اور کئی ممالک کی معیشتیں تباہ ہوسکتی ہیں۔ ہندوستان بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ حکومت کو واضح موقف اختیار کرتے ہوئے جنگ کے خاتمہ پر زور دینا چاہئے ۔ اس تعلق سے سفارتی مہم شروع کی جانی چاہئے ۔ جنگ ختم کرنے کے تعلق سے ہندوستان دبے الفاظ میں بیان بازی کر رہا ہے ۔ کل جماعتی اجلاس میں یہ ساری صورتحال واضح نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہندوستان نے اپنے توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے تاحال کیا اقدامات کئے ہیں۔ ملک کے عوام کو اس جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے تاحال جنگ کے خاتمہ کے مقصد سے کوئی سفارتی مہم شروع بھی کی گئی ہے یا نہیں ۔ اگر نہیں کی گئی تو ایسا کب کیا جائیگا ۔ کیا جائیگا بھی یا نہیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ کل جماعتی اجلاس محض ضابطہ کی تکمیل کیلئے منعقد کیا تھا اور اس میں صورتحال پر اس طرح سے غور و خوض نہیں کیا گیا جس طرح سے کیا جانا چاہئے تھا ۔ وہ کچھ وضاحتیں نہیں کی گئیں جو کی جانی چاہئے تھیں۔ مشکل صورتحال میں اپوزیشن کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ملک کے مفادات کی خاطر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی ۔ اپوزیشن سے تجاویز طلب کی جانی چاہئے تھیں اور حکومت کے منصوبوں سے واقف کروایا جانا چاہئے تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔ اس معاملے میں حکومت کو سنجیدہ موقف اختیار کرتے ہوئے ملک اور ملک کے عوا م کے مفادات کا بہر صورت تحفظ کرنے کی ضرورت ہے ۔