کانگریس میں برقرار رہنے کونڈا سریکھا اور کونڈا مرلی کا اعلان

   

برطرفی کے طریقہ کار کی مذمت، راہول گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا عزم، حامیوں کے اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ سے برطرفی کے بعد پہلی مرتبہ کونڈا سریکھا اور ان کے شوہر کونڈا مرلی نے ورنگل میں پارٹی کارکنوں اور اپنے حامیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ وہ کانگریس میں برقرار رہیں گے اور کسی اور پارٹی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہنمکنڈہ کے ایم کے نائیڈو فنکشن ہال میں منعقدہ اس اجلاس میں کونڈا سریکھا اور کونڈا مرلی نے بڑی تعداد میں موجود کارکنوں سے جذباتی خطاب کیا اور کہا کہ وہ کانگریس سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کئے ہیں اور آئندہ بھی پارٹی میں برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کابینہ سے برطرفی کے طریقہ کار کی مذمت کی اور واضح کیا کہ حقوق کے لئے پارٹی میں رہ کر جدوجہد جاری رہے گی۔ کونڈا مرلی نے واضح کیا کہ ان کا دختر کونڈا سشمیتا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور چیف منسٹر کے خلاف ان کا بیان شخصی رائے ہے۔ کونڈا سریکھا نے کہا کہ کابینہ سے برطرفی کا انہیں دکھ نہیں لیکن جس انداز میں علیحدہ کیا گیا اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈل پرجا پریشد کے رکن سے سیاسی سفر کا آغاز کرتے ہوئے وہ ریاستی وزیر تک پہنچی ہیں۔ بعض قائدین جو صبح، دوپہر اور شام تین پارٹیوں میں دکھائی دیتے ہیں وہ میرے خلاف سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض قائدین کی جانب سے ان کے خلاف سازش کی گئی۔ کونڈا سریکھا نے کہا کہ راج شیکھ ریڈی کے دیہانت کے بعد انہوں نے وائی ایس جگن کے لئے وزارت سے استعفی دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے خلاف جاری مہم پر بھروسہ نہ کریں۔ سوشیل میڈیا اور میڈیا کے دیگر گوشوں میں ان سے متعلق جو خبریں پھیلائی جارہی ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے کابینہ سے برطرفی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی قصور کے بغیر ہی برطرف کردیا گیا۔ میں نے اپنی وزارت کی ذمہ داریوں کو کسی طرح کے کرپشن کے بغیر بخوبی انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ورنگل ایسٹ اسمبلی حلقہ سے وہ مقابلہ کریں گی اور ان کی کامیابی یقینی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کسی کے لئے دائمی نہیں ہوتا اور مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کارکنوں کی وہ تاحیات شکر گذار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل ایسٹ اسمبلی حلقہ کا ٹکٹ دوبارہ انہیں دیا جائے گا اور وہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد پھر ایک بار ریاستی وزیر بن جائیں گی۔ کابینہ سے برطرفی ہائی کمان کا فیصلہ نہیں تھا لیکن ہائی کمان پر اس سلسلہ میں دباؤ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو ملک کے وزیر اعظم کے طور پر فائز کرنا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ 1؍F

کیا کونڈا سریکھا کی کابینہ میں واپسی ہوگی !
حیدرآباد 13 ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ میں ردوبدل میں کونڈا سریکھا کی دوبارہ واپسی عمل میں آئے گی !کونڈا سریکھا کو ہائی کمان سے دہلی طلب کئے جانے کے بعد کئی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ کابینہ میں ردوبدل و توسیع کے دوران کونڈا سریکھا کی دوبارہ کابینہ میں واپسی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا علاوہ ازیں اگر وہ دوبارہ کابینہ میں شامل نہیں ہوتی ہیں تو صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کو کابینہ میں شامل کرکے ہائی کمان کونڈا سریکھا کو تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت سونپ سکتی ہے۔چیف منسٹر ریونت ریڈی اور برادران کے خلاف کونڈا سریکھا کی دختر کونڈا سشمیتا کے ریمارکس کے تنازعہ کے بعد ریونت ریڈی نے ہائی کمان پر دباؤ ڈال کر کابینہ سے برطرف کروانے کے فیصلہ کیا تھا اور ہائی کمان منظوری کے بعد برطرفی کی کاروائی مکمل کرلی گئی لیکن اب دوبارہ کونڈا سریکھا کو ہائی کمان سے طلب کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے ۔ رکہا جارہاہے کہ انہیں کوئی اہم عہدہ تفویض کیا جاسکتا ہے۔ 3