گریٹر نوئیڈااجتماعی عصمت ریزی واقعہ

   

رہائی ہو نہیں سکتی کبھی قید تعلق سے
جو اک زنجیر ٹوٹی دوسری زنجیر دیکھیں گے
قومی دارالحکومت دہلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں ایک 16 سالہ لڑکی کی چلتی ہوئی بس میں اجتماعی عصمت ریزی کا انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ۔ متاثرہ لڑکی اترپردیش کے مین پوری سے گریٹر نوئیڈا جانے کیلئے بس میں سوار ہوئی تھی کہ اسے بس کے ڈرائیور اس کے کنڈکٹر نے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی ۔ پولیس کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ہی ملزمین کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔ اس واقعہ نے تاہم نربھئے واقعہ کی یاد تازہ کروادی ہے اور اس واقعہ سے بی جے پی کا بھی ایک امتحان ہے جو دوسری جماعتوں کے اقتدار والی ریاستوں میں اس طرح کے شرمناک واقعات پر ہنگامہ کھڑا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس کام میں گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس بھی پوری سرگرمی دکھاتے ہیں۔ اصول اور انسانیت کی دہائی دیتے ہیںا ور اپوزیشن جماعتوںکی حکومتوں کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ اس واقعہ نے دہلی ۔ این سی آر اور پڑوسی اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ابتری کو بھی اجاگر کردیا ہے ۔ ایک چلتی ہوئی بس میں اگر کوئی نابالغ لڑکی اس طرح کی جنسی ہوس کا نشانہ بنائی جاسکتی ہے تو پھر عام حالات میں کیا کچھ ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا ۔ اس طرح کے انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات ملک کی کسی بھی ریاست میں ہوں ‘ کسی بھی جماعت کی حکومت والی ریاست میں ہوں انتہائی افسوسناک ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتوں کی جانب سے اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ صرف دکھاوے کے چند اقدامات کرتے ہوئے تلوے چاٹو اینکرس کے ذریعہ واہ واہی بٹورنے سے صورتحال حقیقی معنوں میں بہتر نہیں بنائی جاسکتی اور نہ ہی ملک کی خواتین اور لڑکیوں کی عزت و عصمت کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے انتہائی سخت اقدامات کی ضرور ہوگی ۔ صرف زبانی جمع خرچ سے اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روکا جاسکتا ۔
جس طرح نربھئے معاملے پر سارا ملک ایک آواز ہو کر آواز اٹھا رہا تھا اور اس کی سیاسی پشت پناہی کی جا رہی تھی ۔ جس طرح سے کولکتہ کے آر جی کار ہاسپٹل میں پیش آئے افسوسناک واقعہ پر ہنگامہ آرائی کی گئی ۔ اس کو سیاسی رنگ دیا گیا ۔ میڈیا کے ذریعہ اس مسئلہ کو اچھالا گیا اور ایک طرح کا ماحول پیدا کیا گیا تھا اسی طرح کی کوششیں گریٹر نوئیڈا واقعہ کے تعلق سے دیکھی نہیں جا رہی ہیں۔ اسے بھی ایک عام نوعیت کے معمول کے مطابق ہونے والے جرم کی طرح پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اس واقعہ کو سیاسی پس منظر میں نہیں بلکہ ملک کی خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت کے پہلو سے دیکھا جانا چاہئے ۔اس طرح کے واقعات کو ہندوستانی تہذیب اور اقدار کی روشنی میں دیکھتے ہوئے ان کے تدارک کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملزمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ خواتین اور لڑکیوں کی عزت و آبرو کی حفاطت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے مجرمین کو عبرتناک سزائیں دی جانی چاہئے ۔ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر اگر کوئی کارروائی کی جائے یہ ہماری روایات کے مغائر ہوگا اور یہ ہمارے سماج پر ہمیشہ ایک کلنک ہی دکھائی دے گا ۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر پولیس نے ملزمین کو گرفتار تو کرلیا ہے لیکن انہیں کیفر کردار تک پہونچانے اور انہیں سزائے موت دلانے کیلئے بھی موثر قانونی کارروائی کرنے میںپس و پیش نہیں کیا جانا چاہئے ۔
قانونی کارروائی اپنی جگہ تاہم اگر ملک کے دارالحکومت کے قریب گریٹر نوئیڈا جیسے چمک دھمک والے علاقہ میں اگر چلتی ہوئی بس میں ایک نابالغ لڑکی محفوظ نہیں ہے اور اس کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جاتا ہے تو یہ حکومتوں کی ناکامی بھی ہے ۔ وہ خواتین کے تحفظ کیلئے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہیں لیکن جب عملی اقدامات کی بات آتی ہے تو سیاسی مصلحت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ گریٹر نوئیڈا واقعہ کو سیاسی مصلحت کا شکار کرنے کی بجائے ملک کی بیٹیوں کی حفاطت کے پس منظر میں دیکھتے ہوئے سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔