Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / تراویح میں بسم اللہ جہر سے پڑھنا

تراویح میں بسم اللہ جہر سے پڑھنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلے دہے کا اختتام میں آخر دو رکعتوں میں ایک حافظ صاحب سورہ ٔاخلاص سے پہلے ’’ بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘ بلند آواز سے پڑھے۔ دیگر سورتوں کے شروع میں نہیں پڑھے۔ کیا سورۂ اخلاص سے پہلے بلند آواز سے ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھنا ثابت ہے۔
جواب : بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن شریف کی ایک مستقل آیت ہے، تراویح میں تمام قرآن کے ساتھ اس کو ایک دفعہ کسی سورہ کے شروع میں جہر سے پڑھنا ضروری ہے۔ عالمگیری کتاب الصلوۃ فصل سنن الصلوۃ میں ہے :’’ وھی من القرآن آیۃ انزلت للفصل بین السور کذا فی الظھریۃ ‘‘۔
مولانا عبدالحی صاحب فرماتے ہیں اگر کوئی تراویح میںایک مرتبہ جہر سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت نہ کرے تو قرآن مکمل نہیں ہوگا ، ایک آیت کی کمی ہوگی۔ ’’ بسم اللہ آیتے است از قرآن مکر ر کردہ شد برسر ہر سورہ برائے فصل ، پس ہنگام ختم قرآن و تراویح یک مرتبہ بسم اللہ خواندن ضرور است برسر ہر سورہ کہ خواہد بخواند ، اگر ترک کردہ شد درختم قرآن قصور است ‘‘۔
نابالغ لڑکی پرزکوٰۃ کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی لڑکی آٹھ سال کی ہے۔ ہندہ اس کی شادی کے لئے سونا جمع کرتی ہے، ہر سال دو تین تولہ سونا خریدتی ہے۔ اب تک ہندہ نے اس کے نام سے گیارہ تولے سونا جمع کیا اور وہی اس کو استعمال کرتی ہے۔ کیا ہر سال اس کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ؟ ہندہ کو معلوم نہیں۔ اگر اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اب تک جتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی اس کی زکوٰۃ نکالنا ضروری ہے ؟
جواب : نابالغ لڑکا یا لڑکی پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ البتہ ان کی جانب سے صدقہ فطر کی ادائی اور قربانی واجب ہے ۔ قاضی خان مطبوعہ بر عالمگیری ج اول ص ۲۲۵ میں ہے:  ’’ الزکوٰۃ فرض علی المخاطب ‘‘۔ عالمگیری ج : ۴ کتاب الاضحیۃ میں ہے: و اما شرائط الوجوب منھا الیسار و ھو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکوۃ واما البلوغ والعقل فلیس بشرط حتی کان للصغیر مال یضحی عنہ ابوہ اور وصیۃ من مالہ۔پس صورت مسئول عنہا میں جو سونا خریدکر بچی کو دیا گیا ہے اگر بچی کو مالک بنایا گیا ہے تو بچی پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔ اگر ملکیت ماں کی ہو صرف استعمال کے لئے بچی کو دیا گیا تو ایسی صورت میں ماں پر زکوٰ ۃ واجب ہوگی اور جس سال نصاب ہوا ، اس سال سے اب تک کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
فطرہ کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا فطرہ معصوم بچوںکی طرف سے نکالنا ضروری ہے۔ اس کی مقدار کیا ہے۔ اگر رمضان میں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کردیا جائے تو ادا ہوگا یا عید کی صبح میں ادا کرنا ضروری ہے ۔فطرہ کس کو دینا چاہئے ؟
جواب :  صدقۂ فطر ہر مسلمان، آزاد ، مالک نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے زائد ہو واجب ہے۔ مالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے جو اس کی کفالت میں ہوں صدقۂ فطر ادا کرنا ضروری ہے ۔ در مختار ج ۲ ص ۸۱ میں ہے:  (عن نفسہ و طفلہ الفقیر)۔
صدقۂ فطر میں سوا کیلو گیہوں یا اس کی موجودہ بازاری قیمت ادا کرنا واجب ہے ۔ صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے انہیں کو فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے، انہیں فطرہ بھی نہیں دیا جاسکتا۔ در مختار ج ۲ ص ۸۶ میں ہے: ( و صدقۃ الفطر کا لزکوۃ فی المصارف) ۔
صدقۂ فطر عید کی صبح صادق کے بعد واجب ہوتا ہے اور عیدگاہ جانے سے پہلے ادا کرنا چاہئے اور اگر رمضان میں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کرلیا جائے تو صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔ اگر نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا ہو تو بعد میں ادا کرنا ضروری ہے جب تک کہ ادا نہ کریں ساقط نہ ہوگا۔
فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT